میرے والد صاحب کےدو(2)بھائی تھے ایک ماں باپ کی اولادتھے اور جائیدادبھی سب کی مشترکہ تھی، ان کا ایک گھر پہاڑی میں تھا جوکہ ایک کمرہ تھا کسی وجہ سے میرے والد صاحب کے ایک بھائی نے اس گھر میں بکری رکھنے سے منع کردیا جس کی وجہ سےمیرے والد صاحب گاؤں چھوڑ کر دوسرے علاقے (سوات) چلےگئے ،اور کچھ عرصہ کے بعد سوات سے آکر اس گھر کو جلا دیا ،اس کے علاوہ گاؤں میں ان تین بھائیوں کی مشترکہ زمین تھی معلوم نہیں کہ یہ زمین کتنی تھی کیو نکہ یہ تقریبا( 60)سال پرانا واقعہ ہے ، میرے والد صاحب نے اس زمین کا کچھ حصہ فروخت کیا جس پر ان کے بھائیوں یا ان کی اولاد میں سے کسی نے میرے والد صاحب یا مجھ پر کسی قسم کا دعوی نہیں کیا ، اب میرے والد صاحب اور وہ دونوں بھائی وفات پا چکے ہیں مگر اولاد موجود ہے ، اب ان کی اولاد نے مجھ پر دعوی کیا ہے کہ آپ کے والد نے ہمارا گھر جلایاتھا، اور دوسرے گاؤں میں مشترکہ زمین کاکچھ حصہ فروخت کیا ہے ، لہٰذا ہم باقی ماندہ جائیداد میں اس کا حساب کریں گے ۔ابھی تک کوئی دعوی نہیں تھا مگر اب وہ یہ دعوی کر رہے ہیں ۔
ردالمحتار،العلاعة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(5/ 422)سعيد
إذا ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين، ولم يكن مانع من الدعوى ثم ادعى لا تسمع دعواه؛ لأن ترك الدعوى من التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا اه وفي جامع الفتوى عن فتاوى العتابي قال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة۔
شرح المجلة،سلیم رستم باز (2/983)حقانیة
ان مرور الزمان فی اصطلاح الفقهاء عبارة عن سماع الدعوٰی بعد ان ترکت مدة معلومة، وهذا المنع غیر قیاسی؛ لان الحق لا یسقط بتقادم الزمان… قال فی تنقیح الحامدیة: ثم اعلم ان عدم سماع الدعویٰ بعد مضی ثلاثین سنة او بعد الاطلاع علی التصرف، لیس مبنیا علی بطلان الحق فی ذٰلک، وانما هو مجرد منع للقضاة عن سماع الدعویٰ مع بقاء الحق لصاحبه، حتی لو اقر به الخصم یلزمه۔