بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خریداری کے حقداربن جانے سے ملکیت اور وراثت کاحکم

سوال

میں اور میرے والد صاحب ایک سرکاری محکمہ میں ملازم تھے ۔گورنمنٹ کی طرف سے ایک رہائشی سکیم کا اجراہوا ۔میرے والد صاحب نے بھی ایک عدد پلاٹ کے لیے درخواست دی اور مجھے اپنی درخواست میں نامزد کیا اس دوران درخواست کے ساتھ (زمین کی قیمت) مبلغ چار ہزار روپے جمع کرادیا۔
22اپریل 1991میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا محکمہ نے ممبر شپ قانونی کاروائی کر نے کے بعد میرے نام ٹرانسفر کردی جبکہ پلاٹ کی قرعہ اندازی تقریباً چھ سا ل بعد ہوئی پلاٹ کے تمام اخراجات میں نے ادا کیے بمعہ ترقیاتی اخراجات کے ۔محکمہ نے تمام بقایا جات کلیر ہونے کے بعد پلاٹ کی الاٹمنٹ میرے نام کردی ۔تو کیا مذکورہ پلاٹ کا میں ہی حقدار کہلاتاہوں یا کہ مذکورہ پلاٹ والد (مرحوم )کی وراثت بنتا ہے؟
تنقیح: نمبر 1۔ قرعہ اندازی کی نوعیت کیا تھی ،پلاٹ میں استحقاق ثابت کرنے کے لیے تھی یا پلاٹ کی تعیین کے لیے تھی؟
نمبر 2۔ والدصاحب کی زندگی میں مذکورہ پلاٹ محکمہ کی ملکیت میں آچکا تھا ؟
نمبر 3۔ آپ نے پلاٹ کے جو اخراجات برداشت کیے ہیں اس حوالے سے آپ نے دیگر ورثاء سے کوئی معاملات طے کیے یا نہیں ؟
جواب تنقیح: نمبر 1۔ استحقاق تووالدصاحب مرحوم کے لیے ہوگیا تھا بعد میں قرعہ اندازی محض تعیین کےلیےکی گئی ۔
نمبر 2۔ نہیں محکمہ نے یہ زمین بعد میں خریدی ۔
نمبر 3۔ میرا ان سے کوئی معاملہ طے نہیں ہوا البتہ ان کے علم میں تھا کہ میں قسطیں ادا کر رہا ہوں اور یہ پلاٹ کی ممبر شپ میرے نام ٹرانسفر ہوچکی ہے۔

جواب

جب کسی شخص کا انتقال ہوتاہے ،اس وقت اس کی ملکیت میں جومال وجائیداد موجود ہووہ شرعاً وراثت کہلاتی ہے اور اس میں مرحوم کے تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے مطابق حقدار ہوتے ہیں جبکہ صورتِ مسئولہ میں آپ کی ذکرکردہ تفصیل کے مطابق والد مرحوم نے متعلقہ محکمہ سے جو معاملہ کیا اس کے نتیجے میں والد صاحب اس پلاٹ کے مالک نہیں بنے کیونکہ اس وقت وہ پلاٹ محکمہ کی ملکیت میں بھی نہیں تھابلکہ زیادہ سے زیادہ والدِ مرحوم کو محکمہ سے پلاٹ خریدنے کا ایک حق مل گیاتھا اور خریداری کا حق ملنے کی صورت میں وراثت جاری نہیں ہوتی (جیسے اگر کسی کو حق شفعہ مل جائے تو اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی ) اس لئے اس پلاٹ میں دیگر ورثاء حقدار نہیں ہیں ۔ یہ صرف آپ کی ملکیت ہے۔ البتہ جو رقم آپ کے والد صاحب نے جمع کروائی تھی ، اس میں تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے بقدر حصہ دار ہوں گے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(6/241)سعيد
(و) يبطلها (موت الشفيع قبل الأخذ بعد الطلب أو قبلھ) ولا تورث خلافا للشافعي، ولو مات بعد القضاء لم تبطل (لا) يبطلها (موت المشتري) لبقاء المستحق۔
  قرہ عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350)دارالفكر
 قولہ: (الخالية إلخ) صفة كاشفة، لان التركة في الاصطلاح ما تركہ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(6/ 762)سعيد
[تنبيہ] قيد بالتركة لأن الإرث يجري في الأعيان المالية، أما الحقوق فمنہا ما يورث كحق حبس المبيع وحبس الرہن، و منہا ما لا يورث كحق الشفعة وخيار الشرط… والولايات والعواري والودائع كما لو مات المستعير لا يكون وارثہ مستعيرا وكذا المودع، وكذا الرجوع عن الہبة، وكذا الولاء… وأجمعوا على أن خيار القبول لا يورث، وكذا الإجارة، وكذا الإجازة في بيع الفضولي، وكذا الأجل۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس