میں اپنی زندگی میں جائیداداورپراپرٹی اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ میری اولاد کی تفصیل یہ ہے : 3بیٹیاں،2 بیٹے ،میری اہلیہ۔ پراپرٹی میں ان سب کاحصہ بنا نا ہے ۔ آپ شریعت کے لحاظ سے تقسیم کا طریقہ کار ہم کو بتائیے اور یہ بھی بتادیں کہ میں اپنے لئے کتنا حصہ رکھوں۔
واضح رہے کہ آپ اپنی صحت مند زندگی میں( یعنی مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے پہلے) اپنی تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد میں ہر جائز تصرف کر سکتے ہیں۔آپ پر اپنی زندگی میں اپنا مال وجائیداد تقسیم کرنا شرعًا ضروری نہیں ہےاور اولاد اس کی تقسیم کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتی ۔ البتہ اگر آپ اپنی خوشی سےاپنی اولاد میں اپنی جائیدادتقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔یہ آپ کی طرف سے شرعاً ہبہ (Gift) شمار ہوگا،اور اس پر ہبہ کے شرعی احکام جاری ہوں گے۔
تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہیں رکھ لیں ،تاکہ بعد میں عاجز و محتاج نہ ہونا پڑے ۔پھر اپنی بیوی کو 8/1(آٹھواں حصہ)دیدیں ۔اس کے بعد بہتر یہ ہے کہ آپ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر،برابر حصے دیں،یعنی بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے برابر، برابردیں ۔اور اگر آپ میراث کے طریقے کے مطابق بیٹی کوایک اوربیٹے کودُگنا حصہ دیں تو بھی شرعًا درست ہے ،کوئی حرج نہیں ۔لیکن اگر آپ نے اپنی اولاد میں سےکسی کوقیمتی اشیاء مثلاً جہیز، گاڑی،زیور وغیرہ دی ہوں اور دوسری اولادکو نہ دی ہوں تو موجودہ تقسیم میں سابقہ اشیا ء کی مالیت کو ملحوظ رکھنا بہتر اور انصاف کے مطابق ہوگا۔نیز کسی اولاد کو اس کی ضرورت ،خدمت یا معذوری کی وجہ سے زیادہ مال دینا بھی درست ہے؛ بشرطیکہ دوسری اولاد کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔
واضح رہے کہ چونکہ یہ ہبہ ہےلہٰذا اس میں محض زبانی،تحریری یامشترکہ طور پر دیناکافی نہیں ،بلکہ قابلِ تقسیم اشیاء کو باضابطہ تقسیم کرکے ہر ایک کواس کا حصہ عملی طور پرمالک اور قابض بناکر دینا ضروری ہے،اس کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوگا ۔البتہ جو چیزیں حقیقی تقسیم کے بعد کار آمد نہ رہتی ہو ں ان کو مشترکہ طور پر ہبہ کرسکتے ہیں ۔
مرقاة المفاتيح،علي بن (سلطان) محمد(م:1014ھ)(5/2009)دارالفكر
قال النووي: “فيه استحباب التسوية بين الأولاد في الهبة فلا يفضل بعضهم على بعض سواء كانوا ذكورًا أو إناثا، قال بعض أصحابنا: ينبغي أن يكون للذكر مثل حظ الأنثيين، والصحيح الأول لظاهر الحديث فلو وهب بعضهم دون بعض فمذهب الشافعي، ومالك، وأبي حنيفة – رحمهم الله تعالى – أنه مكروه وليس بحرام والهبة صحيحة۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدین الشامي(م:1252ھ)(4/ 444)سعيد
حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه – صلى الله عليه وسلم – قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى۔
الفتاوی للامام فخرالدین قاضی خان(م:592ھ) (3/ 154)رشیدیة
ولو وهب رجل شيئاً لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض في ذلك على البعض لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا رحمهم الله تعالى روي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين فإن كانا سواء يكره وروى المعلى رحمه الله تعالى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوّى بينهم يعطي للابنة مثل ما يعطي للابن، وقال محمد رحمه الله تعالى يعطي للذكر ضعف ما يعطي للأنثى والفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله تعالى، رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثماً فيما صنع، رجل قال جعلت هذا لولدي فلان كانت هبة۔