ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کو مکان وپلاٹ خرید کر دیئے ہیں تو کیا والد صاحب کے انتقال کے بعد وہ ترکہ میں شمار کیا جائیگایا نہیں ؟
والد صاحب کے انتقال کے بعد بیٹوں نے ساری جائیداد اپنے درمیان تقسیم کر لی اور بہنوں کو محروم رکھا تو کیا ان کا اس طرح کرنا ٹھیک ہے ؟
زندگی میں اپنی اولاد کو مکان یا پلاٹ وغیرہ دینا شریعت کی روشنی میں تقسیمِ میراث نہیں ہے(کیونکہ میراث تو انتقال کے بعد تقسیم ہوتی ہے )بلکہ یہ ہبہ (گفٹ) ہے ، جس کے بارے میں اگرچہ اصل حکم تو یہ ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری کی جائےاور کسی وارث کو نقصان پہچانے کی غرض سے محروم نہ کیاجائے لیکن اگر نقصان پہنچانا مقصود نہ ہوبلکہ کسی معقول شرعی وجہ کی بناء پر اپنی اولاد میں فرق کیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ جس کو جو مکان یا پلاٹ دے اس سے اپنا اختیار مکمل طورپرختم کرکے وہ اسے مالک وقابض بناکرکے دے،صرف زبانی یاکاغذی کارروائی کافی نہیں ورنہ ہبہ مکمل نہیں ہوگا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنی چاروں بیٹیوں کو جو مکان اور پلاٹ خرید کردئیے ہیں وہ اگر ہر بیٹی کو اس کا حصہ الگ الگ کرکے مالک وقابض بناکر دیدیا تھا اور اس سے اپنااختیار بالکلیہ ختم کردیا تھا تو ایسی صورت میں جس بیٹی کو جو حصہ دیا وہ اس کی مالک ہے ، اسے ترکہ میں شامل نہیں کریں گے۔
والدِ مرحوم کے انتقال کے بعد بیٹوں کا ساری جائیداد اپنے درمیان تقسیم کر نا اور اپنی بہنوں کو محروم رکھنا ناجائز اور ظلم ہے، بیٹوں پر لازم ہے کہ وہ مرحوم کے ترکہ میں اپنی بہنوں کو بھی شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے بقدر شریک کریں ۔
صحيح البخاري،محمد بن إسماعيل(م:256ھ)(3/157)دارطوق النجاة
وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اعدلوا بين أولادكم في العطية». وهل للوالد أن يرجع في عطيته۔۔۔ عن النعمان بن بشيرأن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني نحلت ابني هذا غلاما فقال أكل ولدك نحلت مثله قال لا قال فارجعه۔
تکملة فتح الملهم،الشیخ محمد تقی العثمانی(2/46)دارالعلوم کراچی
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفى الله عنه: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اکثر من غيره اتفاقا او بسبب علمه او عمله او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذلک اضرار الاخرين، لا الجور عليهم، کان جائزا علي قول الجمهور وهو محمل اثار الشيخين وعبد الرحمن بن عوف، اما اذا قصد الوالد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غيرداعية مجوزة لذلک فانه لايبيحه احد۔۔۔۔
وفیه ایضاً(2/ 48)
قال العبد الضعیف عفى الله عنه قد ثبت بما ذکرنا ان مذهب الجمهور فی التسویة بین الذکر والانثیٰ فی حالة الحیاة اقویٰ وارجح من حیث الدلیل، ولکن ربما یخطر بالبال ان هذا فیما قصد فیه الاب العطیة والصلة، واما اذا اراد الرجل ان یقسم املاکه فیما بین اولاده فی حیاته لئلا یقع بینهم نزاع بعد موته، فانه وان کان هبة فی الاصطلاح الفقهی ولکنه فی الحقیقة والمقصود استعجال لمایکون بعد الموت وحینئذ ینبغی ان یکون سبیله سبیل المیراث۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(5/696)سعيد
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى۔
وفیه ایضاً(5/690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)سعيد
(قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي۔