بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شرط کےساتھ تفویض طلاق کی ایک صورت

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام شرع محمدی کی روشنی میں کہ میں نے اپنے شوہر سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مجھے طلاق کا مالک بنا دو اس پرمیرے شوہر نے کہا کہ میں نے طلاق تمہارے حوالے کی ہے لیکن ایک شرط ہے کہ (تم مجھے نہیں چھوڑوگی ) یعنی طلاق نہیں دوگی ۔میں نے اس کے جواب میں کچھ نہیں کہا یعنی اپنے اس حق کو استعمال نہیں کیا ۔ اب پوچھنا یہ ہے اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587ھ)(3/ 113)دارالكتب العلمية
أما بيان صفته فهو أنه لازم من جانب الزوج حتى لا يملك الرجوع عنه ولا نهي المرأة عما جعل إليها ولا فسخ ذلك؛ لأنه ملكها الطلاق… وأما من جانب المرأة فإنه غير لازم؛ لأنه لما جعل الأمر بيدها فقد خيرها بين اختيارها نفسها في التطليق وبين اختيارها زوجها، والتخيير بنا في اللزوم۔
      البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970ھ)(3/355) دار الكتاب الإسلامي
إذا قال لها: طلقي نفسك ولم يذكر مشيئة فهو بمنزلة المشيئة إلا في خصلة وهي أن نية الثلاث صحيحة في طلقي دون أنت طالق إن شئت اه. وظاهره أنها إذا لم تشأ في المجلس خرج الأمر من يدها لأن المشيئة في المجلس هي الشرط في المشيئة في عموم الأوقات۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس