بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قسطوں پرپلاٹ کی خریدوفروخت

سوال

حکومت پاکستان کی طرف سے صحافی برادری کے لیے رعایتی قیمت پر ہاؤسنگ سو سائٹی کا اعلان کیا گیا ، جس میں ایک پلاٹ میرے نام بھی الاٹ ہوا ۔رقم کی ادائیگی قسطوں کی صورت میں تھی ،رقم نہ ہونے کی وجہ سے میں قسطوں کی ادائیگی نہیں کر پا رہا تھا کہ اسی اثنا ء میں میرے ایک عزیز کو اس حا ل کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں اس پلاٹ کی کل قیمت جو کہ تقریباً 7 لاکھ روپے ہےاداکروں گااور بطور شراکت نصف پلاٹ میری ملکیت ہو گا۔
چنانچہ میرے عزیز نے ایک سال میں چار اقساط کی صورت میں 95 ہزار کی رقم حکومت کو جمع کرادی،اس دوران پتہ چلا کہ حکومت نے تمام منتخب صحافیوں کوباقی ماندہ رقم معاف کرکے پلاٹوں کا مالک بنادیا ۔
اب اس پلاٹ کو میں فروخت کرنا چاہتا ہوں ،تو میرے عزیز کا دعوی یہ ہے کہ حسب معاہدہ نصف پلاٹ میری ملکیت ہے حالانکہ اس نے کل رقم (جوکہ تقریباً 7 لاکھ تھی )کے بجا ئے صرف 95 ہزار روپےجمع کرائے تھے اور باقی 6لاکھ اور 5ہزار کی رقم نہ حکومت کو جمع کرائی اور نہ ہی مجھے دی ،میرا دعوی یہ ہے کہ باقی قیمت میری صحافیت کی وجہ سے معاف کی گئی تھی ۔ اب اس پلاٹ کی قیمت میرے اندازے کے مطابق 90لاکھ روپے ہے جبکہ میرے عزیز کے اندازے کے مطابق 1کروڑاور10 لاکھ روپے اس کی مالیت ہے ،لہٰذا آپ باقی 6لاکھ 5ہزارروپے لے کر نصف پلاٹ مجھے دے دیں ،یا پلاٹ کی موجودہ قیمت کا نصف 55لاکھ (بقول اس کے )مجھے دیں۔
نمبر1۔کیا میں 2006 ء کے اس معاہدے کی رو سے نصف پلاٹ یاقیمت دینے کا پابند ہوں ؟حالانکہ اس نے پلاٹ کی کل قیمت آج تک ادا نہیں کی ۔ نمبر 2۔کیا وہ سودا آج تک برقرار ہے یا رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ختم ہوچکا ہے ؟ نمبر 3۔یا پھر اس کی اداکردہ رقم کی کل رقم کی نسبت سے پلاٹ کے حصہ دینے کا پابند ہوں ؟ نمبر 4۔بالفرض صورت اول وہ پلاٹ کی 2006 کی value(قدر)کے اعتبار سے باقی ماندہ 6لاکھ 5ہزار روپے دے کر نصف پلاٹ لے گا ،یا موجودہ 2017 value(قدر)کے مطابق قیمت دے گا ؟ نمبر 5۔ حکو مت کی جانب سے دی گئی رعایت صرف میرے لیے ہو گی یاوہ بھی اس رعایت کا حقدار ہوگا ؟
تنقیح: 1۔حکومت کی طرف سے کیا اعلان کیا گیا تھا ؟ اس اعلان کی کاپی مطلوب ہے۔ 2۔آپ کا اپنے عزیز کے ساتھ کیا معاملہ طے ہوا ؟ 3۔بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آ پ کا عزیز قیمت پوری اداکرے اور مالک آدھے کا ہو ،یہ کیسا معاملہ طے پایا تھا ، مکمل صورت واضح فرمائیں ۔ 4۔آپ کاعزیز پیسوں کی ادائیگی آپ کی طرف سے بطور قرض کررہا تھا یا کوئی اور صورت تھی؟ 5۔قسطوں کی ادائیگی کے دوران آپ کو حکومت کی طرف سے آگے بیچنے کی اجازت تھی ؟ 6۔کتنی قسطیں ادا کرنے کے بعد ملکیت آتی ہےقانوناً؟
جواب تنقیح: 1۔اس وقت سرکاری اعلان کی کاپی میسر نہیں ۔ 2۔میرے پاس قسطوں کی ادائیگی کی رقم نہیں تھی میرے عزیز نے قسطوں کی ادائیگی کی حامی بھر لی اور اس کے بدلے نصف پلاٹ کی ملکیت مانگی جس کو میں نے تسلیم کر لیا ،یو ں اس کا قسطوں کی کل رقم (تقریباً7 لاکھ)اداکرکے اس کے عوض نصف پلاٹ کا مالک ہونا طے پایا۔ 3۔حکومت کی طرف سے پلاٹ کی رعایتی قیمت صرف میرے لیے صحافی ہونے کی وجہ سے خاص تھی ورنہ پلاٹ کی اصل قیمت زیادہ تھی ۔ 4۔وہ پیسوں کی ادائیگی بطورِ ثمن کر رہا تھاجس کے بدلے اس کو نصف پلاٹ کا مالک ہو ناتھا۔ 5۔حکومت کی طرف سے پلاٹ بیچنے کی اجازت نہیں تھی ،مگر چونکہ حکو مت نے کچھ پیسے لے کر مجھے دیا اس لیے حکومت کی نہ بیچنے کی شرط ِفاسد ہے مگر جب حکومت کی طرف سے مجھے ملکیت تفویض کر دی گئی تو بیع نافذ ہو گئی ۔ 6۔حکومت کو کم وبیش 7 لاکھ کی ادائیگی کرنی تھی مگر 95ہزار کی ادائیگی کے بعد حکومت نے باقی قسطیں معاف کردیں ۔
تنقیح ِمزید: 1۔فریق ثانی کےساتھ جب آپ نے نصف پلاٹ فروخت کرنے کا معاملہ کیا اس وقت اس سو سائٹی کے نقشہ میں پلاٹ نمبر متعین طور پر بتادیا گیا تھا یا نہیں ؟اور محل وقوع معلوم ہوگیا تھایا نہیں؟ 2۔نیز جس جگہ پر آپ کو پلاٹ دیا گیاہے وہ جگہ حکومت کے قبضہ میں تھی یا نہیں ؟
جوابِ تنقیح: 1 ۔جی تعیین ہو چکی تھی ۔ 2۔سرکاری پلاٹ حکومت کے قبضے میں ہی تھے۔

جواب

نمبر (1تا4) صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے عزیز کے ساتھ جو معاملہ کیاتھا وہ درست ہے اور ابھی تک بدستور باقی ہے۔ لہٰذا آپ دونوں اس پلاٹ میں بطورِ شراکت نصف نصف کےمالک ہیں۔اس لیےاس کی بقیہ ادائیگی 2006 ء میں پلاٹ کی مالیت کے اعتبار سے(6لاکھ 5ہزار روپے)ان پر اور نصف پلاٹ کی سپردگی آپ پرشرعاً لازم ہے ۔
نمبر (5) وہ رعایتیں اور مراعات صرف آپ ہی کے لیے ہوں گی
الدرالمختار،العلامةعلاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(5/86)سعید
(فيصح) البيع (بشرط يقتضيه العقد) (كشرط الملك للمشتري) وشرط حبس المبيع لاستيفاء الثمن (أو لا يقتضيه ولا نفع فيه لأحد) ولو أجنبيا ابن ملك، فلو شرط أن يسكنها فلان أو أن يقرضه البائع أو المشتري… (جرى العرف به كبيع نعل) أي صرم سماه باسم ما يئول عيني (على أن يحذوھ) البائع (ويشركھ) أي يضع عليه الشراك وهو السير۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين،الشامي(م:1252ھ)(5/86)سعيد
(قوله يقتضيه العقد) أي يجب به بلا شرط (قوله ولا نفع فيه لأحد) أي من أهل الاستحقاق للنفع، وإلا فالدابة تنتفع ببعض الشروط، وشمل ما فيه مضرة لأحدهما. قال في النهر: كأن كان ثوبا على أن يخرقه أو جارية على أن لا يطأها أو دارا على أن يهدمها؛ فعند محمد البيع جائز والشرط باطل. وقال أبو يوسف: البيع فاسد، كذا في الجوهرة ومثل في البحر لما فيه مضرة بما إذا اشترى ثوبا على أن لا يبيعه ولا يهبه، والبيع في مثله جائز عندهما خلافا لأبي يوسف اه. قلت: فإطلاق المصنف مبني على قولهما، وشمل أيضا ما لا مضرة فيه ولا منفعة۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587ھ)(5/155)دارالكتب العلمية
والثاني: أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع فإن كان لا ينعقد كالمرهون والمستأجر؛ لأن فيه إبطال حق المرتهن والمستأجر وهذا لا يجوز وقد اختلفت عبارات الكتب في هذه المسألة في بعضها أن البيع فاسد، وفي بعضها أنه موقوف وهو الصحيح؛ لأن ركن البيع صدر من أهله مضافا إلى مال متقوم مملوك له مقدور التسليم من غير ضرر يلزمه. والدليل على أنه مقدور التسليم أنه يمكنه أن يفتك الرهن بقضاء الدين فيسلمه إلى المدين وكذا احتمال الإجازة من المرتهن والمستأجر ثابت في البابين جميعا إلا أنه لم ينفذ للحال لتعلق حقهما فتوقف ويمكن التوفيق بين الروايتين بأن يحمل قوله: فاسد على أنه لا حكم له ظاهر وهو تفسير الموقوف عندنا فإذا توقف على إجازتهما فإن أجازا جاز ونفذ۔
وفیه ایضاً(5/168)
ومنها):أن يكون مقدور التسليم من غير ضرر يلحق البائع فإن لم يمكن تسليمه إلا بضرر يلزمه فالبيع فاسد؛ لأن الضرر لا يستحق بالعقد ولا يلزم بالتزام العاقد إلا ضرر تسليم المعقود عليه، فأما ما وراءه فلا، وعلى هذا يخرج ما إذا باع جذعا له في سقف أو آجرا له في حائط أو ذراعا في ديباج أو كرباس أنه لا يجوز؛ لأنه لا يمكنه تسليمه إلا بالنزع والقطع وفيه ضرر بالبائع والضرر غير مستحق بالعقد فكان هذا على هذا التقدير بيع ما لا يجب تسليمه شرعا فيكون فاسدا فإن نزعه البائع أو قطعه وسلمه إلى المشتري قبل أن يفسخ المشتري البيع؛ جاز البيع حتى يجبر المشتري على الأخذ؛ لأن المانع من الجواز ضرر البائع بالتسليم فإذا سلم باختياره ورضاه فقد زال المانع فجاز البيع ولزم، ….. والأصل المحفوظ أن ما لا يمكن تسليمه إلا بضرر يرجع إلى قطع اتصال ثابت بأصل الخلقة فبيعه باطل وما لا يمكن تسليمه إلا بضرر يرجع إلى قطع اتصال عارض فبيع فاسد إلا أن يقطع باختياره ويسلم فيجوز۔
تبيين الحقائق،العلامة فخر الدين الزيلعي(م:743ھ)(4/79)المطبعة الكبرى الأميرية
(صح بيع العقار قبل قبضھ) وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد لا يجوز لقوله – عليه الصلاة والسلام – «إذا اشتريت شيئا فلا تبعه حتى تقبضه» رواه أحمدولأنه لايقدر على تسليمه قبل قبضه فلا يجوز بيعه كالمنقول، ولهذا لا تجوز إجارته قبل القبض ولهما أنه لا يتوهم انفساخ العقد فيه بالهلاك وهو مقدور التسليم فصار كالمهر وبدل الخلع والعتق وبدل الصلح عن دم العمد وهذا؛ لأن هلاك العقار نادر ولا يمكن تعييبه ليصير هالكا حكما حتى لو تصور هلاكه قبل القبض قالوا: لا يجوز بيعه وذلك بأن كان على شط النهر ونحوه وما رواه معلول بغرر انفساخ العقد بالهلاك قبل القبض وذلك لا يتصور فيه إلا نادرا والنادر لا حكم له فصار كاحتمال غرر الانفساخ بالاستحقاق بعد القبض فيه وفي المنقول والدليل على أنه معلول به أن التصرف في الثمن قبل القبض جائز؛ لأنه لا غرر فيه… وفي المحيط لو باع غير المنقول قبل القبض إن كان المشتري الأول نقد الثمن فالبيع الثاني نافذ؛ لأنه قادر على التسليم إذليس للبائع منع المبيع عنه وإن لم ينقد الثمن فالبيع الثاني موقوف وهو الأصل كبيع المرهون۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس