بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معین شخص پر لعنت کرنا

سوال

میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں اور قرآن مجید اللہ کی آخری الہامی کتاب ہے،میں آئین میں ہونے والی ترمیم نا منظور کرتا ہوں اور اس ناپاک ترمیم کرنے والوں اور خاموش رہنے والے مذہبی منافقین پر لعنت بھیجتا ہوں ،ہر مسلمان شیئر کرے۔کیا اس طرح لعنت کرنا صحیح ہے؟کس موقع پر اور کن کن مواقع پر لعنت کر سکتے ہیں ؟

جواب

لعنت کا معنی ہے” اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُور کرنا “اورحقیقت میں کا فر ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ لعنت کا لفظ بہت سنگین ہے اس کے استعمال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے خصوصٍاً کسی متعین شخص یا چندمتعین لوگوں پر اس وقت تک لعنت کرنا ہر گز جائز نہیں ہے جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہوکہ ان کی موت کفر پرواقع ہوئی ہو۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامی(م: 1252ھ)(3/416)سعید
مطلب في حكم لعن العصاة: أقول: حقيقة اللعن المشهورة هي الطرد عن الرحمة، وهي لا تكون إلا لكافر، ولذا لم تجز على معين لم يعلم موته على الكفر بدليل وإن كان فاسقا متهورا كيزيد على المعتمد، بخلاف نحو إبليس وأبي جهل فيجوز وبخلاف غير المعين كالظالمين والكاذبين فيجوز أيضا لأن المراد جنس الظالمين وفيهم من يموت كافرا، فيكون اللعن لبيان أن هذا الوصف وصف الكافرين للتنفير عنه والتحذير منه لا لقصد اللعن على كل فرد من هذا الجنس لأن لعن الواحد المعين كهذا الظالم لا يجوز فكيف كل فرد من أفراد الظالمين، وإذا كان المراد الجنس لما قلنا من التنفير والتحذير لا يلزم أن تكون تلك المعصية حراما من الكبائر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس