ہمارے ہاں مخصوص شرائط کے ساتھ موٹرسائکل اسکیم کا کاروبار کیا جاتا ہے ،اور وہ شرائط یہ ہیں۔
۔1۔کل۔۔۔۔۔۔قرعہ اندازیاں ہو ں گی ۔
۔2۔طے شدہ ماہانہ کمیٹی ۔۔۔۔۔۔ہوگی ۔جو ہر ماہ کی 5تا ریخ سے پہلے پہلے پہنچانا ممبر کی ذمہ داری ہو گی۔
۔3۔ہر ماہ کی دس تاریخ کو قرعہ اندازی ہو گی قرعہ اندازی والے دن ممبر کاپہنچنا اپنی ذمہ داری ہوگی بعد میں اعتراض قا بل قبول نہیں ہو گا ۔
۔4۔جس خوش نصیب کی بذریعہ قر عہ اندازی گا ڑی نکلے گی اس کو کیر ی ڈبہ سوزوکی بولا ن انوائس کے ساتھ دی جا ئے گی
۔5۔ممبر کو اپنے شناختی کارڈ کی ایک فوٹو کا پی فراہم کرنا ہو گی ۔
۔6۔جس مہینے ممبر کمیٹی نہیں دے گا اس ممبر کو لکی ڈرا میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اگلے ماہ لکی ڈرامیں شامل ہونے کے لیے اس ممبر کو دو کمیٹیاں دینی ہو ں گی۔
۔7۔دوکمیٹیوں کی عدم ادائیگی پر مذ کورہ ممبر کی لکی ڈرا میں ممبر شپ ختم کردی جائے گی ۔ ۔8۔ ممبر شپ جاری نہ رکھنے کی صورت میں ممبر اپنی جمع شدہ رقم کمیٹی کے اختتام پر %50کٹو تی کرنے کے بعد الشیخ بارگین سے وصولی کر سکے گا ۔ ۔9۔ممبر شپ ٹرانسفرایبل ہے مگر الشیخ بار گین کی رضا مندی شامل ہو گی ۔ ۔10۔قرعہ اندازی کا سسٹم نیو ٹرل ہو گا جس میں کمیٹی ممبران کی رائے کو مد نظر رکھا جائے گا ۔ ۔11۔کمیٹی کے اختتام پر باقی تمام ممبر ز کو ہنڈا 150۔ CGموٹرسائکل دی جا ئے گی ۔ جبکہ رجسٹریشن کے مبلغ۔ 4000روپے فی کس دیے جا ئیں گے۔ ۔12۔کسی بھی تنازعے کی صورت میں الشیخ بار گین کا فیصلہ حتمی ہو گا اور کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا سکے گا۔ ۔13۔ممبر تمام شرائط کا پا بند رہے گااور شرائط کی پا بندی نہ کرنے کی صورت میں مذکورہ ممبر کی ممبر شپ کینسل کر دی جا ئے گی ۔ ۔14۔کمیٹی کے اختتام پر تمام ممبران کی جمع شدہ رقم کے عوض موٹر سائیکل ہی دی جائے گا نقد رقم کی واپسی کا مطالبہ کسی بھی صورت قابل قبول نہ ہو گا ۔ ۔15۔یہ ممبر شپ فارم ڈپلیکیٹ کا پی میں ہے ایک کاپی کسٹمر کے لیےاور دوسرے الشیخ بارگین کے لیے ہے ۔ ۔16۔GSTلاگو ہونے کی صورت میں گاڑی کی مذکو رہ قیمت میں جو بھی اضا فہ ہو گا وہ ممبر پر لاگو ہوگا ۔ ۔17۔جس خوش نصیب ممبر کا کیری ڈبہ سوزوکی بولان لکی ڈرا میں نکلے گا اسے چابی کے 50ہزار روپے دینے ہو نگے۔
ذکرکردہ طریقہ کار کے مطابق اسکیم بنانااور اس میں شرکت کرنا ناجائزہے کیونکہ اس میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہےاگر اس کوقرض قرار دیاجائے توجن شرکاء کا قرعہ اندازی میں پہلے نام نکل آتاہے انہیں اس قرض کی وجہ سے مہنگی گاڑی یاموٹرسائیکل تھوڑی سی رقم پر مل جاتی ہےجوقرض پر نفع حاصل کرناہےاور سود ہےاور اگر اس اسکیم میں جمع کروائی جانے والی رقم کو مبیع کاثمن قراردیاجائے تو اس میں یہ خرابی ہے کہ پہلے سے مبیع(موٹرسائیکل) اور اس کی قیمت متعین نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہوجاتاہے ،اسی طرح مذکورہ خرابیوں کے علاوہ اس معاملہ میں ایک ناجائز شرط یہ بھی عائدکی گئی ہے کہ ممبرشپ جاری نہ رکھنے کی صورت میں ممبر کی جمع کردہ رقم میں سے پچاس فی صد کی کٹوتی کی جائے گی اور صرف پچاس فی صد رقم واپس ملے گی حالانکہ قرض کی پوری رقم واپس کرناشرعاً لازم ہے اور اس میں کٹوتی جائز نہیں، لہٰذا بہر حال ایسی اسکیم بنانے اور اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔البتہ اگر کمیٹی کی مذکورہ اسکیم کے بجائے قسط وار خریدوفروخت کی صورت اختیار کرکے اس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھاجائےتو اس کی گنجائش ہوگی
۔(۱)مبیع یعنی موٹر سائیکل کو متعین کر لیا جائے اور سودا ہو جانے کے بعد وہ خریدار کے سپرد کر دی جائے،سودے کے کچھ مدت بعد موٹر سائیکل سپرد کرنے کی شرط لگانا ناجائز ہے۔
۔(۲)موٹر سائیکل کی ایک قیمت طے کر کے فریقین اسی مجلس عقدمیں اس پر متفق ہو جائیں۔
۔(۳)ادائیگی کی مدت،اوقات اور قسطوں کی مقدار بھی متعین کردی جائے۔
۔(۴)قیمت متعین ہو جانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت میں اضافہ یا جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصول کرنے کی شرط نہ لگائی جائے۔
ان شرائط کی پابندی کے ساتھ یہ معاملہ جائز ہوگا ،اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی خلاف ورزی کی گئی تو معاملہ ناجائز ہو جائے گا۔