میری والدہ (مرحومہ )عنایت بیگم کی ملکیت میں ایک مکان بمعہ دکانیں ہیں جس کے موجود ورثاء درجہ ذیل ہیں ۔(1)محمود الٰہی(بیٹا)(2)جاوید الٰہی(بیٹا)(3)مقبول الٰہی(بیٹا)(4)چاندنی عزیز(بیٹی) (5) منورسلطانہ (مرحومہ بیٹی جس کاانتقال والدہ کےانتقال سےپہلےہواتھا)کے بچے۔ان کےعلاوہ اورکوئی وارث نہیں۔ محمود الٰہی اور جاوید الٰہی اس مکان میں رہا ئش پذیر ہیں اور تینوں بیٹے دکان کا کرایہ وصول کر رہے ہیں ۔محمود الٰہی اور جاوید الٰہی اس جائیداد کو بیچنا نہیں چاہتے ،جبکہ بہن (چاندنی عزیز)اور منور سلطانہ کے بچے اور مقبول ضرورت کے پیش نظراپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں،کیا ہمارا اس وقت مطالبہ کر نا جائز ہے اور شرع کےاعتبار سے پانچوں ورثاء کے حصوں کا کیا تنا سب ہوگا؟
تنقیح: دوکا نوں سے آنے والے کرایہ کے بارے میں بھائیوں کا تصرف دیگر ورثاء کی اجازت سے ہے یا بغیر اجازت ، اور کرایہ کی تقسیم کا اور گھر میں رہائش رکھنے سے متعلق کوئی معاملہ طےہوا ہے یا نہیں ؟
جوابِ تنقیح: باہمی مشاورت یا رضامندی سے نہیں رہے ،اور ساراکرایہ خود کھاتے ہیں کسی اور کو نہیں دیتے۔
مرحومہ”عنایت بیگم” نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد(جیسے صورت مسئولہ میں مکان اور دو دکانیں) ،نقدی، بینک بیلنس ،سونا چاندی ،مال ِ تجارت اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا ساز و سامان(مثلاً کپڑے ،برتن وغیرہ) چھوڑا ہے ، وہ سب شرعاًمرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں سب سے پہلے مرحومہ کے کفن ودفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں گے،پھر اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض قابل اداہو تو اس کو ادا کریں،پھر اگر مرحومہ نے غیرِ وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی(3/1) کی حد تک اس پرعمل ہوگا۔اس کے بعد جو مال بچ جائے اس کے کل سات برابر حصے کرکے ہر بھائی کو دو دو اور بہن کو ایک حصہ دیا جائے گا۔
منور سلطانہ (مرحومہ بیٹی ) اور اس کی اولاد شرعاً کسی بھی چیز میں وراثت کی حقدار نہیں اور ان کا مطالبہ بھی درست نہیں ہے،اس لئے ان کونا حق چیز کے مطالبہ سے بچنا چاہیے۔البتہ اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی اور خوش دلی سے ان کو وراثت میں سے کچھ دینا چاہیں تو ان کو دیدینا چاہیے،خواہ صدقہ کی نیت ہی سے کیوں نہ ہو،ورنہ پیار و محبت سےان کو سمجھا دیا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں :
وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا [النساء:8]
اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت (غیر وارث )رشتہ دار اور یتیم بچے اور مساکین آجائیں تو تم لوگ ترکہ میں ان کو کچھ دیدو اور ان کو بھلی بات کہو
میراث کی تقسیم میں بلاعذرتاخیر کرنا درست نہیں ہے۔ تمام ورثاء کے ذمہ لازم ہےکہ وہ ترکہ کو جلد از جلدشرعی طریقہ کار کے مطابق تقسیم کریں۔متروکہ مکان اوردکانوں پر بعض ورثاء کا قبضہ کرلینا اور مطالبہ کے باوجود دیگر ور ثاء کو ان کا حصہ نہ دینا “غصب اور ظلم “ہے ۔قرآن وحدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ الله سبحانہ وتعالیٰ نےقرآن کریم میں ورثاءكے حصوں كو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا
وَمَنْ يَّعْصِ اللّهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [النساء : 14]
اور جو شخص اللہ اور اس کےرسول کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سےتجاوز کرے گااسے اللہ تعالیٰ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو اس کو ذلیل کر کےرکھ دے گا۔‘‘
اور نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں
عن سعيد بن زيد قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين». (مشكاة: 2/887،ط:المکتب الاسلامی) ’’جس شخص نے زمین کا ایک بالشت حصہ بھی ظلما ًلیاقیامت کے روز اس کوسات زمینوں سے نکال کر اس شخص کی گردن میں طوق بنا کر ڈالا جائیگا۔‘‘
اس لئےمذکورہ صورت میں بھائیوں کے لئے ضروری ہے کہ قرآنی اور نبوی ہدایات کے مطابق دیگرورثاءکو ان کا حق پورا پورا دیدیں، اس میں کوتاہی یا ٹال مٹول نہ کریں ۔ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔ واضح رہےکہ مذکورہ صورت میں بھائیوں کا گذشتہ عرصہ میں دکانوں سےآنے والا کرایہ وصول کرکے اس کو استعمال کرناشرعاًدرست نہیں تھا۔لہٰذا اب تک وہ جوکرایہ وصول کرتے رہے اور اس میں تصرف کرتے رہے، اس میں سے دیگر وارثوں کے شرعی حصے کے بقدر ادائیگی ان پر شرعا لازم ہے ۔ البتہ اگر آئندہ کے لیےمکان میں رہنے والے دونوں بھائی ،دیگر ورثاء کی رضامندی سےکرایہ داری کا کوئی معاملہ طے کرلیں اور دکانوں سے آنے والے کرایہ کو اپنے اپنے شرعی حصہ کےبقدر تقسیم کرنے کا معاہدہ کرلیں تواس کی اجازت ہے اور اس کے مطابق مکان کا کرایہ ادا کرنا اور معاہدہ کی پاسداری کرنا ضروری ہوگا ۔