بیوی اور شوہر کے درمیان شادی کے بعد کچھ اختلافات شروع ہوئے جو تین سا ل میں اتنی شدت اختیار کر گئے کہ دونوں کا ایک جگہ رہنا مشکل ہو گیا اس صورت حال میں بیوی ا پنے میکے چلی آئی کچھ صلح کی بات چلی مگر کوئی بات مؤثر ثابت نہیں ہوئی، بیوی کے والدین نے سوچا کہ یہ رشتہ آگے نہیں چل سکتا لہٰذا اسے ختم کردیا جائے اس کے لئے ایک ثالث متعین کیا گیا ،جس نے شوہر سے بات کی کہ وہ بیوی کو طلاق دےدے مگر شوہر نےکہا کہ دو ہی راستےہیں یا تو وہ واپس آجائے جیسے ہم نےپہلےرکھا تھاویسے ہی رکھیں گے یا پھر ساری عمر والدین کے گھر بیٹھی رہے ۔
ثالث نے کہا کہ اگر آپ طلاق نہیں دیتے تو پھر وہ شرعی طور پر حق خلع کی طرف رجوع کریں گے کیونکہ یہ حق تو شریعت نے بیوی کو دیا ہے ،اس بات کے بعد شوہر نے کہا کہ میں شریعت کو نہیں مانتا اور نہ ہی طلاق دوں گا چاہے میرے ٹکڑےٹکڑے کردیے جائیں ۔
نمبر۱۔کیا یہ کہنے کے بعد کہ “میں شریعت کو نہیں مانتا” آیا میا ں بیوی کےدرمیان نکاح باقی ہے یا ختم ہو گیا ہے؟
نمبر۲۔ اگر شرعی اعتبا ر سے نکاح باقی نہیں رہا تو ان دونو ں کے درمیا ن دوبا رہ نکاح کا کیا طریقہ اختیا ر کیا جائے؟
نمبر۳۔ اس با ت کے کہنے بعد تقریبا نو سال گزر چکے ہیں بیوی اپنے والدین کے گھر ہے ،اگر نکاح ختم ہوگیا ہے تو عدت کب سے شمار ہوگی؟
نمبر۱۔۳،صورتِ مسئولہ میں شوہر نے “شریعت کو نہیں مانتا “کے الفاظ ثالث کے قول “وہ شرعی طور پر حق خلع کی طرف رجوع کریں گے ، کیونکہ یہ حق شریعت نے بیوی کو دیا ہے” کے جواب میں کہے ، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا مقصود شریعت کا انکار نہیں تھا ،بلکہ خاص اس عدالتی خلع سے انکا ر مقصود تھا ، اس لئے اس شخص پر کفر کاحکم نہیں لگا یا جا سکتا اور اس کا سابقہ نکاح بر قرار رہے گا۔البتہ شوہر نے جو عمومی الفاظ کہے ہیں وہ اپنے عموم کے لحاظ سے بہت سنگین ہیں ، جس کی وجہ سے کفر کا اندیشہ ہے ،اس لئے شوہر کو چاہیے کہ وہ اس پر توبہ کرے اور احتیاطا ًتجدیداسلام اور تجدید نکاح کرے۔ (فتاوی محمودیہ21/120ط:ادارہ الفاروق کراچی۔فتاوی دارالعلوم دیوبند 8/283،ط:مکتبہ حقانیہ۔کفایة المفتی 1/49،ط:قدیمی نسخہ)
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(2/283)دارالفكر
ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي (م: 1252ھ)(4/230)دارالفكر
مطلب في حكم من شتم دين مسلم ثم إن مقتضى كلامهم أيضا أنه لا يكفر بشتم دين مسلم: أي لا يحكم بكفره لإمكان التأويل. ثم رأيته في جامع الفصولين حيث قال بعد كلام أقول: وعلى هذا ينبغي أن يكفر من شتم دين مسلم، ولكن يمكن التأويل بأن مراده أخلاقه الرديئة ومعاملته القبيحة لا حقيقة دين الإسلام، فينبغي أن لا يكفر حينئذ، والله تعالى أعلم۔