بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وکیل کا زکوۃ کی رقم استعمال کرنے میں مؤکل کی مخالفت کرنا

سوال

ایک شخص نے مدرسے کے ایک منتظم کو زکوۃ کی رقم دی اور یہ کہا کہ اس میں سے مدرسے میں بھی دیں اور کچھ اور مدات نامزد کر کے ان میں خرچ کرنے کو کہا ،مقدار کو متعین کرنےکے بارے میں وکیل کو اختیار دیا کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کریں ، وکیل نے غلطی سےساری رقم مدرسے میں جمع کروادی اور بعد میں یاد آیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، رقم ابھی تک اسی طرح محفوظ ہےمدرسے کے دوسرے اموال کےساتھ خلط نہیں ہوئی ہے ،معطی کا یہ مطالبہ ہے کہ باقی رقم واپس لے کر دوسری مدات میں دی جائے ،تو اب اس رقم میں سے کتنی رقم دوسری مدات کے لئے واپس لی جاسکتی ہے۔

جواب

مذکورہ صورت میں وکیل کو ساری رقم مدرسے میں دینےکا اختیار نہیں تھا اس لئے کل رقم کو معطی کی متعین کردہ مدات پر تقسیم کرکے ایک حصہ مدرسے میں باقی رکھنا ضروری ہے اور بقیہ رقم واپس لے کرمعطی کی ہدایت کے مطابق تقسیم کی جائے۔
البحر الرائق،ابن نجيم المصري (م:970ھ) (2/ 228)دارالكتاب الإسلامي
وفي القنية من باب الوكالة بأداء الزكاة لو أمره أن يتصدق بدينار على فقير معين فدفعها إلى فقير آخر لا يضمن ثم رقم برقم آخر أنه في الزكاة يضمن، وله التعيين۔
 مجمع الضمانات،غانم بن محمد البغدادي الحنفي(م: 1030ہ)(ص: 262)دارالكتاب الإسلامي
 دفع إليہ قدرا ليدفع إلى فلان من الزكاة فدفعہ إلى آخر فدفعہ الآخر إلى ذلك الفقير أجزأہ وخرج الوكيل عن الضمان۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس