بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک بیوہ،تین بیٹیاں اوردوعلاتی بھائی کےدرمیان تقسیمِ میراث

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے ورثاء میں بیوہ،تین بیٹیاں ، دو علاتی(باب شریک) بھائی زندہ ہیں ، ان کے علاوہ ایک فوت شدہ بھائی کے چار بیٹے اور ایک بیٹی اورایک فوت شدہ بہن کے دو بیٹےبھی زندہ ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نےانتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد مکان،کارخانہ،پلاٹ، سونا،چاندی، نقدی،مالِ تجارت،کپڑے،برتن اور چھوٹا بڑا جو بھی گھرکا سازوسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سےپہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسّط اخراجات نکالےجائیں، اگر کسی اور نے یہ اخراجات اپنی طرف سے بطور احسان ادا کردیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحوم کے ترکہ میں سے نہیں نکالے جائیں ، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجبُ الاداء ہو تو اس کو ادا کریں ،اوربیوہ کا مہر اگر ادا نہیں کیا اور بیوہ نے اپنی خوشی سے معاف بھی نہیں کیا تو وہ بھی مرحوم کے ذمہ قرض ہے،لہٰذا اسے بھی ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نےاپنی زندگی میں غیروارث کے لئے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی کی حدتک اس وصیت پر عمل کریں ،اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے اس کے کل (۱۴۴)برابر حصے کرکے مرحوم کی بیوہ کو(۱۸) حصے اور فی بیٹی کو (۳۲)حصے اورفی علاتی بھائی کو (۱۵) حصے دے دیں ۔واضح رہے کہ مرحوم کے بھتیجے اور بھانجے محروم ہونگے۔

تقسیمِ میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے

    مسئلہ:24 تص144

بھانجا2 بھتیجی1 بھتیجے4 سوتیلے بھائی 2 بیٹیاں 3 بیوی
محروم محروم محروم عصبہ ثلثان ثمن
  5 16 3
30 96 18
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس