بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایسی ویب سائٹ بنانا جو انشورنس کمپنیوں کی جانب راہ نمائی کرے

سوال

مجھے ایک کام مل رہا ہے جس میں مجھے ایک کمپنی کی ویب سائٹ بنانی ہے ،وہ کمپنی خود تو انشورنس کا کام نہیں کرتی لیکن وہ اس ویب سائٹ کے ذریعے لو گو ں کی راہ نمائی کر تی ہے کہ کس شہر میں کو نسی انشورنس کا کیا ریٹ ہے؟ اور کو نسی انشورنس سب سے اچھی ہے ؟ یعنی ویب سائٹ ایک ایجنٹ کا کام کر تی ہے اور لوگوں کو انشورنس خریدنے اور اس میں رعایت دینے میں مدد کرتی ہے ،کیا یہ کام کرنا میرے لیے ٹھیک ہے ۔
تنقیح :جو ا یجنٹنگ ویب سائٹ آپ بنا رہے ہیں اس ویب سائٹ میں مواد(ڈیٹا)آپ اپ لوڈکریں گے یاکمپنی والے خود۔
ا یجنٹنگ ویب سائٹ جو انشورنس کمپنی اور ان کی پالیسی کے بارے میں راہ نمائی کرے گی ان میں کوئی جائز ، اسلامی انشورنس کمپنی بھی ہے جومستند علما ء کی نگرانی میں کام کر تی ہو یا ناجائز انشو رنس کمپنی ہی ہیں ؟اگر دونوں ہیں تو دونوں کا فیصد کیا ہے۔
جوابِ تنقیح : ویب سائٹ پرمواد ہم دونوں اپ لوڈ کر یں گے۔اور ویب سائٹ پر امریکہ کی ساری کمپنیز ہو ں گی گاڑی کی انشورنس دیتی ہیں ،میرا نہیں خیال کہ امریکہ میں کو ئی کمپنی علماء کی زیر نگرا نی کا م کرتی ہوگی اور اگر کرتی بھی ہو گی تو بہت کم ہو ں گی ۔
میرا زیا دہ زور گاڑی کی انشورنس پر ہے کہ کیا وہ حلال ہوتی ہے یا نہیں ،کیو نکہ کا رکی انشورنس صرف نقصان پورا کرتی ہے ہمیں کو ئی مالی فائدہ نہیں ہو تا اس کا ۔

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کا ایک ناجائز اور حرام کام میں تعاون پایا جارہا ہے ، اگرچہ اس تعاون میں آپ کا قصدو ارادہ حقیقۃً نہ بھی ہو، لیکن حکماً (یعنی مذکورہ ویب سائٹ کا استعمال صرف و صرف ناجائز انشورنس پالیسی لینے والوں کی راہ نمائی کرنا)ضرور ہے،خاص طور پر جب کہ مواد (Data) بھی آپ کومستقل اپ لوڈ کرتے رہنا ہے۔ نیز آپ کا یہ تعاون گناہ کے کام میں قریبی سبب کا درجہ بھی رکھتا ہے ،جو براہ راست گناہ کے کام کی راہ نمائی اور اس کے لئے مدد فراہم کررہا ہے ، پھر یہ چیزاس طرح سے گناہ کا باعث اور اس کے لئے واضح ترغیب و تحریک کاذریعہ بنے گی کہ اِس ایجنٹ ویب سائٹ کی وجہ سے لوگ ناجائز انشورنس پالیسی خریدنے تک سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کرسکیں گے ۔قرآن و حدیث کی نصوص اور فقہاء کی بیان کردہ نظائر کی روشنی میں یہ دونوں صورتیں شرعاً ممنوع ہیں ،اور ایسے گناہ کے کام کے لئے سبب بننا یا اس میں تعاون کرنا خود اس گناہ کو کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔(مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں :جواہر الفقہ ،7/510)
چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :گناہ اور ظلم ( کے کاموں ) میں تعاون مت کرو”(سورۃ المائدۃ:2) حدیث شریف میں آتا ہے ” جو شخص کسی کو بھلے کام کی طرف دعوت دیتا ہے یا ( ایک روایت کے مطابق ) راہ نمائی کرتا ہے اور وہ اس کو کرلیتا ہے،تودونوں کے لئے برابر اجر و ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر برائی کی طرف بلاتا ہے (یا راہ نمائی کرتا ہے) تو بھی دونوں کے لئے برابرکا گناہ لکھا جاتا ہے، کرنے والے کے ثواب یا گناہ سے کچھ بھی کمی نہیں کی جاتی “(موطا امام مالک ؒ،حدیث نمبر:631)
لہٰذا آ پ کو ایسی ویب سائٹ بنانے سے اور اس میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنے سے مکمل اجتناب کرنا ہو گا۔ نیز چونکہ وہ ایجنٹ ویب سائٹ مکمل غیر اسلامی انشورنس کمپنیوں کے بارے میں راہ نمائی کرتی ہے اس لئے اس سے حاصل ہو نے والی مکمل آمدنی بھی حرام ہو گی ۔
القرآن الکریم: [المائدة: 2]
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّهَ ط إِنَّ اللّهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ
الموطأ للامام مالك بن أنس الأصبحي المدني(م: 179ھ)(1/ 248)مؤسسة الرسالة
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من داع يدعو إلى هدى فيتبع، إلا كان له مثل أجر من اتبعه، لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا، وما من داع يدعو إلى ضلالة، إلا كان عليه مثل أوزارهم، لا ينقص ذلك من أوزارهم شيئا۔
تفسير ابن كثير،أبو الفداء إسماعيل بن عمر(م: 774ھ)(2/ 12)دارطيبة
وقوله: { وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ }يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل. والتعاون على المآثم والمحارم۔
مصنف ابن أبي شيبة، أبو بكر بن أبي شيبة،(م: 235ھ) (4/ 448)الرشد-الرياض
 عنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لُعِنَ آكِلُ الرِّبَا وَمُؤْكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ»۔
مرقاة المفاتيح،علي بن (سلطان) محمد، (م: 1014ھ)(5/ 1916)دارالفكر
 قال الخطابي: سوى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بين آكل الربا وموكله، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل۔
بحوث في قضايافقهية معاصرة،محمد تقی العثمانی(1/359،360)دارالعلوم کراچی
(إن الإعانة على المعصية حرام مطلقا بنص القرآن، أعني قوله تعالى: { وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ}[المائدة:2]. وقوله تعالى: {فلن أكون ظهيرا للمجرمين} [القصص:17]. ولكن الإعانة حقيقة هي ما قامت المعصية بعين فعل المعين، ولا يتحقق إلا بنية الإعانة أو التصريح بها، أو تعينها في استعمال هذا الشيء، بحيث لا يحتمل غير المعصية، وما لم تقم المعصية بعينه لم يكن من الإعانة حقيقة، بل من التسبب.  ومن أطلق عليه لفظ الإعانة فقد تجوز، لكونه صورة إعانة، كما مر من السير الكبير. ثم السبب إن كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام، كالإعانة على المعصية بنص القرآن كقوله تعالى: { وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِ } [الأنعام: 108] وقوله تعالى: {فلا تخضعن بالقول}[الأحزاب: 32] وقوله تعالى: {ولا تبرجن} [الأحزاب:33]. وإن لم يكن محركا وداعيا، بل موصلا محضا،وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمرا، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريما، بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم وصرح كان داخلا في الإعانة المحرمة. وإن كان سببا بعيدا، بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها)

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

12

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس