بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مال تجارت کی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے میں قیمت کا اعتبار

سوال

مال تجارت کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تین سال تک تو اب پچھلی قیمت کے اعتبار سے ادا کرے یا موجودہ قیمت کا؟

جواب

اگر مال تجارت کی گذشتہ تین سال سے زکوۃ ادا نہیں کی تو اب پچھلی قیمت کے اعتبار سے بھی ادا کر سکتا ہے اور موجودہ قیمت کے اعتبار سے بھی لیکن بہتر یہ ہے کہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے ادا کرے۔
در المختار کتاب الزکوۃ (3/250) رشیدیة
(وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء۔
الفتاوى الهندية (1/ 179) دار الفكر
 إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتمالحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 23) دارالكتب العلمية
ولو أراد أن يؤدي القيمة جاز عندنا خلافا للشافعي، لكن عند أبي حنيفة في الزيادة والنقصان جميعا يؤدي قيمتها يوم الحول وهي خمسة دراهم، وعندهما في الفصلين جميعا يؤدي قيمتها يوم الأداء في النقصان درهمين ونصفا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس