دلہن کو بارات کی شکل میں لینے جانا اور وہاں کھانا کھانا جیسا کہ ہمارے معاشرے میں رواج بن چکا ہے کہ کم سے کم پچاس افراد ساتھ جاتے ہیں اور لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھاتے ہیں، بندے نے بعض علماء سے سنا ہے کہ یہ عمل خلافِ سنت ہے، براہِ مہربانی اس حوالے سے شریعت کے احکامات سے آگاہ فرمائیں کہ کیا بارات مذکورہ تعداد میں لے کر جانا اور وہاں کھانا کھانا خلافِ سنت ہے؟ اور بارات کی دعوت میں شرکت کرنا جب کہ وہاں کوئی خلافِ شریعت کام بھی نہ ہو رہا ہو تو کیسا ہے؟
صحيح البخاری (۹/۲) مكتبة الشيخ
عن ابي هريرة رضى الله عنہ عن النبیﷺ قال: من كان يومن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه۔
الصحيح المسلم (۱۹۲۱) قدیمی کتب خانه
عن نافع، أن ابن عمر كان يقول عن النبی ﷺ :اذا دعااحدکم أخاه، فليجب عرسا كان أو نحوه»۔
سنن ابی داود (٥٢٥/٢) مکتبه محمودیه
عن نافع ، قال : قال عبد الله بن عمر قال رسول الله صلی الله عليه وسلم – : ” من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله ، ومن دخل على غیر دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا”۔