اخترنےاپنامکان 3لاکھ روپےکےبدلےمیں نعیم کوگروی پردیا،نعیم نےاپنی رہائش اس مکان میں رکھی ہوئی تھی اورکوئی کرایہ وغیرہ ادانہیں کرتاتھااخترکےایک دوست نےاسےبتایاکہ اس صورت میں تو سودبن رہاہےتواخترنےاسلم سے3لاکھ روپےلیکرنعیم کواداکردیئے۔اب نعیم مکان کاکرایہ اداکرتاہے جوکہ دس ہزار روپےہےاخترکرایہ لےکراس کانصف اسلم کودیتاہےاورکہتاہےکہ یہ میرااوراسلم کامشترکہ کاروبارہے اوریہ کرایہ نصف بطورمنافع کےاسلم کواداکرتاہوں،نیزاخترنےاسلم کو3لاکھ روپےتوبہرحال اداکرنےہی ہیں وہ اپنی جگہ برقرارہیں ،کیااخترکاایسےکرناشریعت کی روشنی میں درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اسلم کے لئے اختر سےصرف اپنی اداکردہ رقم (تین لاکھ روپے)وصول کرناجائز ہے اس سے زائد رقم لیناسودہونے کی وجہ سے حرام ہےاور اس زائد رقم کونفع سمجھنادرست نہیں لہٰذااختر پرلازم ہے کہ نفع کے نام سے جتنی رقم وصول کرچکاہے اس کو تین لاکھ روپے میں سے منہاکرکے صرف باقی ماندہ رقم اختر سےوصول کرے۔
تفسيرابن كثير،أبوالفداء إسماعيل بن عمر(م: 774هـ)(1/717)دارطيبة للنشر والتوزيع
عن سليمان بن الأحوص عن أبيه قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فقال: “ألا إن كل ربا كان في الجاهلية موضوع عنكم كله، لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون، وأول ربا موضوع ربا العباس بن عبد المطلب، موضوع كله”۔۔
الموطأ للمام مالك بن أنس المدني(م: 179هـ)ت الأعظمي(4/984)أبوظبي
عبد الله بن عمر يقول: من أسلف سلفا، فلا يشترط إلا قضاءه.مالك؛ أنه بلغه أن عبد الله بن مسعود، كان يقول: من أسلف سلفا، فلا يشترط أفضل منه. وإن كانت قبضة من علف، فهو ربا۔
السنن الكبرى لأبي بكرالبيهقي(م: 458هـ)(5/573)دا الكتب العلمية
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا “۔
لسان الحكام،أبو الوليد أحمدبن محمد(م: 882هـ)(1/261)البابي الحلبي
وإنما يكره ذلك لقوله صلى الله عليه وسلم كل قرض جر نفعا فهو ربا۔
العناية،محمدبن محمدالرومي البابرتي(م: 786هـ)(8/454)دارالفكر
لا تجوز الزيادة على القرض۔