بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہبہ کےلیےقبضہ شرط ہے

سوال

ايك باپ نےاپنامکان بچیوں کےنام کیاہواہے،زبانی کلامی کہا،کوئی قانونی کاروائی نہیں کی اورنہ ہی ان کوقبضہ کرایاگیا،خوداوردوسرےبچےاس میں کرایہ داربن کررہ رہےہیں۔اب باپ نےوہ مکان ایک سال کی مدت /معاہدہ پربیچ دیا،اورخریدارکوکہاکہ ہماری ایک بچی کاحصہ جلدی دیدو،تاکہ ہم اس کوفارغ کردیں اوراس کےلئےزیوروغیرہ خریدسکیں۔خریدارنےوہ متعین رقم اداکردی ہےاورہم اسی گھرمیں کرایہ داربن کررہ رہےہیں اب وہ کرایہ کن کن بچیوں کوملےگایاپھرخریدارکوملےگا ۔
مزیدوضاحت: باپ (فروخت کنندہ )اورخریدارکےدرمیان کوئی خاص معاہدہ نہیں ہواتھا،صرف یہ بات طےپائی تھی کہ خریدارکچھ رقم پہلےدیدےچھ ماہ بعدکچھ مزیدرقم اداکرنےپرقبضہ دیدیاجائےگااوربقیہ ادائیگی سال پرمکمل ہوگی ۔واضح رہےکہ مذکورہ مکان گروی اوررقم وصولی کےلئےنہیں روکاہوا،بلکہ فروخت کنندہ کامکان دوسری جگہ تعمیرہورہاہےاس وجہ سے ۔

جواب

سب سے پہلے یہ بات سمجھیں کہ سوال میں ذکرکردہ صورت میں باپ کا بچیوں کو ہبہ (Gift)کرنےکی پوری شرعی شرائط نہ پائی جانے کی وجہ سے درست نہیں ہو ا۔لہٰذا وہ مکان بدستور والد ہی کی ملکیت میں رہا۔اوربچیوں کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ شرعاً درست نہیں ہو ا۔البتہ جو رقم والد اور بیٹے کرایہ کی مد میں کرایہ سمجھتے ہو ئے بیٹیوں کو دیتے رہے ،وہ ہدیہ ہو نے کی وجہ سے بیٹیاں اس رقم کی مالک ہو گئیں۔
صورت مسئولہ میں وہ مکان شرعاً باپ کی ملک ہے ۔اور باپ نے اپنی ہی ملکیت کو بیچا ہے ۔لہٰذا بیع کا معاملہ ہو جا نے کے بعد بھی حسب سابق بیٹیاں کرایہ کی حقدار نہ ہو ں گی ۔
واضح رہے کہ اب یہ مکان خریدار کی ملکیت ہے ، اس لئےاس کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیاجا سکتا اور آگے کرایہ پر بھی نہیں دیاجا سکتا ۔البتہ اگر معاملہ کر تے وقت فروخت کنند ہ نے مکان میں رہنے و غیرہ کی شرط نہیں لگائی تھی تو اب خریدار کی طرف سےاگر رہنے کی اجازت ہو توفروخت کنندہ کے لئے اس مکان میں عاریۃًرہنے کی شرعاً اجازت ہے۔
۔(فقہ البیوع ،شیخ الاسلام محمدتقی العثمانی(۱/۴۰۰)معارف القران)
 فتبين بهذا ان القانون لايعتبرهذه الوثيقه قبضا،ولانقلا بدون الملك۔
بدائع الصنائع،علاء الدين،أبو بكر بن مسعودالكاساني(م: 587هـ)(6/ 123)العلمية
والموهوب قبل القبض على ملك الواهب يتصرف فيه كيف شاء..وروي عن سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر وسيدنا عثمان وسيدنا علي وابن عباس – رضي الله عنهم – عنهم أنهم قالوا لا تجوز الهبة إلا مقبوضة محوزة ولم يرد عن غيرهم خلافه ولأنها عقد تبرع فلو صحت بدون القبض لثبت للموهوب له ولاية مطالبة الواهب بالتسليم فتصير عقد ضمان وهذا تغيير المشروع۔
الفتاوى الهندية،لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي(4/ 392)دارالفکر
 وإذا وهب لابنه وكتب به على شريكه فما لم يقبض لا يملكه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس