بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ٹی وی فروخت کرنا

سوال

میرےشوہرنےL.C.Dلینی ہے۔توجوپہلےسےT.Vہےاس کاکیاکریں،بیچ دیں یا اگرکسی کوفری میں دیدیں،،توگناہ ہوگا؟

جواب

آپ کےلیےٹی وی کوفروخت کرنایاکسی کوہدیہ میں دیناکراہت سےخالی نہیں ہے۔نیزٹی وی کا غالب استعمال گناہ کےکاموں میں ہورہاہے،اس لئےحتی الوسع اس کےاستعمال اورگھرمیں رکھنےسےاجتناب کریں، خصوصاًبہترسےبہترٹی وی کےحصول کےلئےاس پرخطیررقم کاخرچ بہت ہی ناپسندیدہ عمل ہے۔
 خلاصة الفتاوي طاهربن عبدالرشيدالبخاري(م:542 هـ) (4/376)رشيدية
رجل آجربيتاليتخذفيه ناراّ،او بيعة او كنيسة اويباع فيه الخمر،فلاباس به وكذا كل موضع تعلقت المعصية بفعل فاعل مختار۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(4/ 268)سعيد
وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية.وكذافي جواهرالفقه،لمفتي محمد شفيع (7/509) دارالعلوم کراچی۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس