بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سیلزمین کوملنےوالی ٹِپ کاحکم شرعی

سوال

ہماراجنرل سٹور کاکام ہےجس کو چلانےکےلئےہم نےسیلزمین اورکیشیرز ہائر کر رکھےہیں ۔ سیلزمین کو13000جبکہ کیشیرزکو18000روپےسیلری اداکی جاتی ہے۔سیلزمین جب گاہک کاسامان چھوڑنے جاتا ہےتواسےگاہک کی طرف سےٹِپ ملتی ہے،اس ٹِپ کی مدمیں سیلزمین کےپاس شام تک تقریباً800 سے لیکر 1000تک جمع ہوجاتےہیں،جس کی وجہ سےدوسرےملازمین اپنےکام چھوڑکرسیلزمین بننےکامطالبہ کرتےہیں ، ہم اس کی وجہ سےبہت پریشان ہیں ،اس کےحل کےلئےہم نےایک باکس بنایاجس کانام ٹِپ باکس رکھاہے۔تمام سیلزمین کوہدایت کی گئی ہےکہ جوبھی ٹِپ ملےگی آپ سب لوگ اس باکس میں ڈالیں گےاورتمام ملازمین کوبتادیاگیاہےکہ یہ باکس ہرتین ماہ کےبعدکھولاجائےگااورٹِپ کی رقم تمام کیشیرزاورسیلزمین میں برابرتقسیم کی جائےگی ،اوراگرکوئی درمیان میں چلاگیاتواس کااس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔کیاہمارایہ طریقہ کاردرست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سیلزمین کو ملنے والی ٹپ گاہکوں کی جانب سے سیلزمین کے لئے ہدیہ ہے ،لہٰذا جس سیلزمین کو گاہکوں کی جانب سے جتنی رقم مل جائے وہ اسی سیلزمین کی ملکیت ہے،جنرل سٹور کادیگرعملہ اس میں شریک نہیں ہےاوراس رقم کواس سیلزمین کی دلی خوشی کے بغیراس سے وصول کرنادرست نہیں،اس لئےسیلزمین کوٹپ کی رقم ٹپ باکس میں ڈالنےکاپابندبنانا اوراس رقم کوسٹور کے تمام عملے میں برابرتقسیم کرنادرست نہیں ، اس طریقہ کوترک کرناضروری ہے البتہ سٹور کے نظام کوبہتر بنانے کے لئے یہ کیاجاسکتاہے کہ سیلزمین کی تنخواہ مزید کم کردی جائے اورکیشئرزکی تنخواہ میں مزیدمعقول اضافہ کردیاجائے تاکہ باہمی تناسب قائم رہ سکے۔
مذكوره جواب درست ہے،البتہ اگرکوئی ادارہ انتظامی طورپریہ طےکرلیتاہےکہ جوبھی اضافی ٹپ کےطورپررقم حاصل ہوگی وہ جمع کرکےسب ملازمین میں تقسیم کی جائی گی اورٹپ دینےوالےکوبھی اس اصول کاعلم ہوتواس نظم میں کوئی قباحت نہیں،البتہ اس آمدنی کی تقسیم میں زیادہ تاخیرمناسب نہیں، ہرماہ تنخواہ کےساتھ تقسیم کرنابہترہے
مشكاة المصابيح،محمد بن عبد الله الخطيب التبريزي(م: 741هـ)( ص:255) اسلامی کتب خانہ
وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله ﷺ: «ألا لاتظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه».رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى۔
عمدة القاري،العلامة بدرالدين العينى(م: 855هـ)(13/164)دارإحياء التراث العربي
بَابُ مَنْ أُهْدِيَ لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ جُلَسَاؤُهُ، فَهُوَ أَحَقُّ أي: هذا باب في بيان حكم من أهدي له، بضم الهمزة على صيغة المجهول، و: هدية: مرفوعة بإسناد أهدي إليه. قوله: (وعنده) أي: والحال أن عند هذا الذي أهدى له جماعة، وهم جلساؤه وهو جمع جليس. قوله:(فهو أحق)، جواب من: أي: الذي أهدى له أحق بالهدية من جلسائه، يعني: لا يشاركون معه… وقال ابن بطال: معنى الحديث الندب عند العلماء فيما خف من الهدايا، وجرت العادة فيه، وأما مثل الدور والمال الكثير فصاحبها أحق بها، ثم ذكر حكاية أبي يوسف القاضي: أن الرشيد أهدى إليه مالا كثيرا وهو جالس مع أصحابه، فقيل له: قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: جلساؤكم شركاؤكم، فقال أبو يوسف: إنه لم يرد في مثله، وإنما ورد فيما خف من الهدايا من المأكل والمشرب، ويروى من غير هذا الوجه أنه: كان جالسا وعنده أحمد بن جنبل  ويحيى بن معين، فحضر من عند الرشيد طبق وعليه أنواع من التحف المثمنة، فروى أحمد ويحيى هذا الحديث، فقال أبو يوسف: ذاك في التمر والعجوة، يا خازن! إرفعه.فقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس