بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیرمسلم کامسجدکودیاہواچندہ اپنی ضروریات میں خرچ کرنا

سوال

ایک ادارےکی حدودمیں مسجدتعمیرہوناشروع ہوئی ۔لوگ آکرچندہ دیتےتھے،اس ادارے کے ملازمین میں کچھ غیرمسلم بھی تھےانہوں نےبھی مسجدکےلئےچندہ دیا۔چندہ وصول کرنےوالےشخص نےیہ سوچاکہ چونکہ غیرمسلم کامال مسجدمیں نہیں لگایاجاسکتا،اس لئےاس نےغیرمسلموں سےوصول شدہ چندہ اپنی ضروریات میں استعمال کرلیا،جبکہ اس واقعہ کوتقریباًپچیس سال ہوچکےہیں،اوراب ان غیرمسلموں سےرابطہ بھی نہیں رہا۔معلوم یہ کرناہےکہ اب ان پیسوں کےتدارک کی کیاصورت ہوگی؟

جواب

مسجدکی تعمیرکےلئےغیرمسلم کاچندہ اس شرط کےساتھ قبول کرناجائزہے،جب غالب درجہ میں احتمال ہوکہ غیرمسلم چندہ دیکرمسجدکےمعاملات میں دخیل نہیں ہوگااورمسلمان اس سےمرعوب نہیں ہوں گے اوران کی خاطراپنےمذہبی شعائرمیں عدمِ شرکت،مداہنت اورغفلت کوبرداشت نہیں کریں گے۔(اسلام کانظام اوقاف،خلیل احمداعظمی صاحب،ص:205،ط:ادارہ اسلامیات)
مذکورہ صورت میں چندہ وصول کرنےوالاشخص غیرمسلموں کاوکیل یامتولی تھاجس نےشرعی ضابطہ کوسامنےنہ رکھتےہوےاپنی سوچ سےاس رقم کواستعمال کرلیا،جوبہرصورت خیانت ہے،کیونکہ چندہ قبول کرنا جائز تھا اور اس کومتعینہ مصرف پرلگانالازم تھا۔اپنی ضروریات میں استعمال کرنا جائزنہیں تھا؛ لہذامذکورہ شخص شرعاًخیانت کامرتکب ہواہےاورتمام رقم کاضامن ہے،جس کےتدارک کےلئےضروری ہےکہ اس رقم کواسی مسجدکی تعمیرہی میں لگادیاجائے۔
ملحوظہ:مذکورہ شخص کوچندہ استعمال کرنےسےقبل رہنمائی حاصل کرنی چاہئےتھی،رہنمائی حاصل کرلی جاتی توخیانت کےگناہ سےبھی بچ جاتےاورمسئلہ بھی معلوم ہوجاتا۔اس خیانت کےگناہ پراستغفاربھی کرناچاہئے،فقط۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي الحنفي(م: 1088هـ)(5/525)سعيد
                      الاصل فی الوکالةالخصوص والمضاربة العموم۔
فتاوی قاضی خان،فخرالدين الحسن بن منصور (م:592ه)(3/175)رشیدية
 رجلاجمع مالامن الناس لينفقه في بناءالمسجد،وانفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه ثم ردّبدلهافي نفقة المسجد،لايسعه أن يفعل ذلك ،وإذافعل…قالوا:نرجوله في الاستحسان :أن ينفق مثل ذلك من ماله في  المسجدفيجوزويخرج عن الوبال فيمابينه وبين الله۔
 الفتاوى الهندية (2/ 416)دارالفكر
 لو أنفق دراهم الوقف في حاجته ثم أنفق مثلها في مرمة الوقف يبرأ عن الضمان۔
 البحر الرائق،زين الدين بن إبراهيم ،ابن نجيم المصري (م: 970هـ)(5/ 204)دارالكتاب الإسلامي
 الحادي عشر: أن يكون للواقف ملة فلا يصح وقف المرتد …وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم۔

      مسجدمیں کافرکامال خرچ کرنےکےحوالےسےتفصیلی فتوی کفایت المفتی،مفتی کفایت اللہ (م:1372ھ)(10/293) ط:فاروقیہ میں موجودہے

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس