بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مردکےلئےلوہا،پیتل،تانبا،سلور یا دھاگہ وغیرہ ہاتھ یاگلےمیں ڈالنا

سوال

نمبر۱۔آج کل ہاتھ پردھاگہ باندھنایاکڑا ڈالنایاگلےمیں کوئی چیزوغیرہ ڈالناکسی وجہ سےیابطورِزینت رواج بناہواہےکیا ان سب کاموں کی شریعت میں اجازت ہےیانہیں؟
نمبر۲۔کیامردلوہا،پیتل ،تانبا،سلوراوران سےمشابہت رکھنےوالی چیزیں ہاتھ یاگلےوغیرہ میں ڈال سکتاہےیانہیں۔ نیزان چیزوں کےبنےہوئےیاچاندی کےبنےہوئےتعویذڈال سکتاہے ؟

جواب

نمبر۱،۲۔مردوں کے لئے سوال میں مذکور دھاتوں سے بنی ہوئی اشیاءکڑا وغیرہ گلے یا ہاتھ میں ڈالنا،چاندی کے خول میں تعویذ ڈالنا،تکبرکی خاطریا کسی فاسدعقیدہ کی بناء پردھاگہ بازوپرباندھناناجائزاورگناہ ہے،البتہ اگرکوئی شرکیہ عقیدہ نہ ہو اورکسی ضرورت کی خاطر مثلاً کسی بات کی یاددہانی کے لئے بازو پردھاگہ باندھاجائے تو اس کی اجازت ہے ،چاندی کے علاوہ دیگردھاتوں کے خول میں تعویذ ڈالنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیئے۔( )
ملحوظہ: شریعت مطہرہ میں حرام اشیاء کےاستعمال کےذریعہ سےزینت حاصل نہیں کی جاسکتی اوراس پرزیب وزینت کااطلاق بھی نہیں کیاجاتا۔ہمارےمعاشرےمیں جوکچھ ہوتاہےاس کی اصلاح کےلئے تذکیر،حکمت،موعظہ حسنہ کواختیارکرنامفیداورمؤثر ہوگا۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(6/363)سعيد
(لا) يكره (خرقة لوضوء) بالفتح بقية بلله (أو مخاط) أو عرق لو لحاجة ولو للتكبر تكره (و) لا (الرتيمة) هي خيط يربط بأصبع أو خاتم لتذكر الشيء والحاصل أن كل ما فعل تجبرا كره وما فعل لحاجة لا۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(6/363)سعيد
(قوله ولا الرتيمة) جمعها رتائم وتسمى رتمة بالفتحات الثلاث وجمعها رتم بالفتحات أيضا يقال: أرتمت الرجل إرتاما إذا عقدت في أصبعه خيطا يستذكر به حاجته إتقاني عن أبي عبيدة قال الشاعر: إذا لم تكن حاجاتنا في نفوسكم … فليس بمغن عنك عقد الرتائم قال في الهداية: وقد روي أن النبي – صلى الله عليه وسلم – أمر بعض أصحابه بذلك اهـ.وفي المنح إنما ذكر هذا لأن من عادة بعض الناس شد الخيوط على بعض الأعضاء، وكذا السلاسل وغيرها، وذلك مكروه لأنه محض عبث فقال إن الرتم ليس من هذا القبيل كذا في شرح الوقاية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس