ايك بندہ ہےجس پراس كی ملکیت میں موجودمالیت سےزیادہ قرض ہےاس کےباوجودوہ مکئی اورگندم کاسالانہ عشربھی دیتاہے۔
نمبر۱۔کیااگریہ شخص عشرنہ دےتواس کوگناہ ہوگایانہیں ؟
نمبر۲۔اوراگرکوئی دوسراشخص اپنی زکوٰۃ اس کودےتواس کی زکوٰۃ اداہوجائیگی یانہیں؟
نمبر۳۔نیزصدقہ فطرکےوجوب کےلئےاسی قدر نصاب کامالک ہونالازمی ہےجس کامالک ہونا زکوۃ میں لازم ہوتاہے(یعنی ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کامالک ہونا)؟
نمبر۱۔عشرکاتعلق صاحب نصاب ہونےسےنہیں بلکہ پیداوارسےہے چاہے وہ کم ہویا زیادہ ہو،لہذا مذکورہ صورت میں مقروض شخص کوبھی اپنی پیداوا ر پرعشراداکرنا ہوگا۔
نمبر۲۔ زکوۃ کےنصاب اورصدقہ فطرکےنصاب میں فرق یہ ہےکہ زکوۃ میں صرف مالِ نامی (سونا،چاندی،مال تجارت ،نقدی اورسائمہ جانور)کوشامل کیاجاتاہےجبکہ صدقہ فطرکےنصاب میں ضرورت سےزائدایساسامان بھی شامل کیاجاتاہےجومالِ نامی نہیں ہوتا،مثلاًضرورت سےزائدبرتن ، کپڑےوغیرہ۔
نمبر۳۔ اگرکوئی شخص صدقہ فطرکےنصاب کامالک نہ ہوتو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔