بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ايك بیوہ،پانچ بیٹیاں اوردوبیٹوں کےدرمیان تقسیمِ میراث

سوال

ایک شخص کاانتقال ہوا،اس کےورثاءمیں ایک بیوہ،پانچ بیٹیاں،دوبیٹےہیں۔اورکل ترکہ ایک کروڑ، چالیس لاکھ روپےچھوڑےہیں۔مذکورہ ترکہ ان ورثاءکےدرمیان کیسےتقسیم ہوگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں حقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدکل ترکہ کے72مساوی حصےکرکے9حصےبیوہ کو،سات حصےہربیٹی کواور14حصےہربیٹےکودیدئےجائیں۔مذکورہ تفصیل کےمطابق سوال میں دی گئی رقم حسب ذیل طریقہ سےتقسیم ہوگی
نمبر۱۔بیوہ:17،50،000 سترہ لاکھ،پچاس ہزارروپے
نمبر۲۔فی بیٹی :13،61،111 تیرہ لاکھ،اکسٹھ ہزار،ایک سوگیارہ روپے
نمبر۳۔فی بیٹا: 222 ،27،22ستائیس لاکھ،بائیس ہزار،دوسوبائیس روپے

:  تقسیم میراث کانقشہ

   مسئلہ8تص72                                            مضروب9

بیٹے ۲ بیٹیاں ۵ بیوہ۱
عصبہ عصبہ ثمن
فی بیٹا ۱۴ حصے بی بیٹی ۷ حصے ۹
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس