بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک بھائی اوردو بہنوں کےانتقال کےبعدان کےورثاء میں تقسیم میراث

سوال

ایک مکان میں تین حصےدارتھے،ایک بھائی (حصہ 2/1)اوردوبہنیں(ہرایک کاحصہ 4/1): بھائی (شیخ مبین )کاانتقال جون 1988ء میں ہوا،اس کی نہ کوئی بیوی ہےاورنہ ہی اولادصرف ایک بھتیجا (شیخ ادریس)ہے۔
پہلی بہن (زلیخا)کاانتقال ،فروری 1973ء میں ہوا۔اس کے تین بیٹےاورایک بیٹی ہے(شیخ الیاس ،شیخ محمدشعیب،شیخ انیس،اورملکہ بیگم)
دوسری بہن(زبیدہ بیگم)جس کی وفات اگست 1992ء میں ہوئی ۔اس کی پانچ بیٹیاں ہیں (زبیدہ بیگم،حسن آرا،مشہودہ بیگم،شہنازبیگم،بشرٰی)اوراس کےشوہر کاانتقال اس سےپہلے دسمبر1990ءمیں ہوچکا تھا۔
اب اس مكان كوبیچنےکاارادہ ہےجس کی مالیت دوکروڑروپےہے،تومکان سےحاصل شدہ رقم مذکورہ ورثاء(شیخ ادریس ،زلیخاکےتین بیٹےاورایک بیٹی اورزبیدہ بیگم کی پانچوں بیٹیاں)کےدرمیان کیسےتقسیم ہوگی؟
شیخ مبین کی وفات کےوقت ان کی جائیدادمیں حصہ داران ان کی بہن زبیدہ بیگم اوربھتیجاشیخ ادریس تھےتوجائیدادمیں بہن کاکتناحصہ ہوگا؟بھتیجےکاکتناحصہ ہوگا؟کیازبیدہ بیگم کی وراثت میں بھتیجے کاکوئی حصہ ہوگا؟

جواب

شیخ مبین ،زلیخابیگم کےترکہ میں سےحقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کےبعدان کےمشترکہ مکان کی تقسیم اس طرح کی جائےکہ اس کےکل 420مساوی حصےکرکےان میں سےالیاس کو30،شعیب کو30،انیس کو30،ملکہ بیگم کو15،ادریس کو175اورزبیدہ بیگم کی پانچ بیٹیوں میں سےہربیٹی کو28حصے ديےجائیں۔فیصدکےحساب سےتقسیم اس طرح ہوگی الیاس کو7.14فیصد،شعیب کو 7.14،انیس کو7.14فیصد،ملکہ بیگم کو 3.57فیصد،ادریس 41.66کوفیصد،زبیدہ کی پانچ بیٹیوں میں سےہربیٹی کو6.66فیصددیاجائےگا۔واضح رہےکہ مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہوگی کہ مرحومین کےسوال میں جوورثاءذکرکئےگئےہیں ان کےعلاوہ کوئی اوروارث نہ ہو اگران کےعلاوہ کوئی اوروارث موجودہوتوتفصیل لکھ کردوبارہ سوال کریں۔واللہ خیرالوارثین
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس