بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بغیراطلاع ایک دن کی چھٹی کرنےپردو دن کی اجرت کاٹنا

سوال

ہم نےاپنےملازمین کوہرماہ چارچھٹیاں دےرکھی ہیں ،اس کےعلاوہ انہیں بغیراطلاع چھٹی کرنےکی اجازت نہیں ہے،البتہ یہ ملازمین ایک ،دو دن پہلےاطلاع کرکےچھٹی لےسکتےہیں،کیاہم بغیراطلاع چھٹی کرنےوالےملازم کی ایک چھٹی کی بجائےدودن کی تنخواہ کاٹ سکتےہیں یانہیں ؟اوراس کٹوتی سےحاصل شدہ رقم کسی خیراتی ادارےکودےسکتےہیں یانہیں؟عیدین کےموقع پرہم دویاتین چھٹیاں دیتےہیں۔اس کےبعدجوملازم بغیراطلاع کےمزیدایک یادو دن کی چھٹی کرتاہے،کیااس کی عیدوالی دویاتین چھٹیوں کی تنخواہ بطورِجرمانہ یاسزاکےکاٹی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کےلئےملازم کےبغیراطلاع ایک دن کی چھٹی کرنےپراس کی دو دن کی اجرت کاٹناجائزنہیں ۔اسی طرح عیدکےجن ایام کی چھٹی دیناملازمت کےمعاہدےمیں طےہو، بعد کےدنوں کی غیرحاضری کی وجہ سےان عیدوالےدنوں کی اجرت سےکٹوتی کرنابھی جائزنہیں ہے۔ کیونکہ ملازم(اجیرخاص)کومقررہ وقت کےدوران کام پرحاضررہنےکی اجرت ملتی ہے،لِہذاجس دن ملازم بغیراطلاع غیرحاضررہاہو،صرف اس دن کی اجرت کی کٹوتی کرناتوجائزہوگا،اس سےزیادہ کی کٹوتی جائز نہیں۔
البتہ ملازمین کوتنبیہ اوراحساس دلانےکےلئےیہ طریقہ اختیارکیاجاسکتاہےکہ ملازمین کی بنیادی تنخواہ کچھ کم مقررکرکےباقی حصہ کوبغیراطلاع چھٹی نہ کرنےوالےملازمین کےلئےبونس قراردیاجائےجومعاہدےمیں تنخواہ کاحصہ نہ ہو ۔چناچہ اگرکوئی ملازم بغیراطلاع چھٹی کرےتواس بونس میں سےکچھ یاسارےکی کٹوتی کرناجائزہوگا۔
قال الله تبارک وتعالی:(البقرة: 194)
(فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ)
مشكاة المصابيح،أبوعبدالله(م:741ه)(2/ 889)المكتب الإسلامی
 (2946) عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»۔
دررالحكام في شرح مجلة الأحكام،علي حيدر(م: 1353هـ)(1/ 458)دارالجيل
 (المادة:425):الأجير يستحق الأجرة إذاكان في مدة الإجارة حاضراللعمل ولايشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(6/ 70)سعيد:(باب ضمان الاجیر)
في التتارخانية:نجاراستؤجرإلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهوآثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجاربقدرما عمل في الدواة۔۔
وفيه أیضاً(4/ 61)سعيد
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز.اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية:ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس