بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بلاضرورت مسجدسےنکلنامفسداعتکاف ہے(قرآن وحدیث سےثبوت)

سوال

معتکف کےلیےبلاضرورت مسجد شرعی سےباہرجانادرست نہیں ہےاوراس سےاعتکاف فاسد ہوجاتاہے ۔دریافت طلب امریہ ہےکہ کیاقرآن وحدیث میں اس مسئلہ کی اصل موجودہے؟اگرکسی آیتِ مبارکہ یاحدیث طیبہ سےیہ مسئلہ ثابت ہوتاہےتواس کی وضاحت فرماکرممنون فرمائیں۔

جواب

قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ سے ثابت ہوتاہے کہ کسی طبعی یاشرعی حاجت کے بغیر مسجد سے نکل جانے سے سنت اعتکاف ٹوٹ جاتاہے ،چنانچہ قرآن کریم میں سورۂ بقرۃ آیت نمبر 187میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد‘‘ ’’اورنہ ملوعورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں‘‘۔(ترجمہ ٔشیخ الہندرحمہ اللہ بحوالہ معارف القرآن 1/452) اس آیت کے ذیل میں امام ابوبکرجصاص رحمہ اللہ(متوفی 370ھ) فرماتے ہیں کہ:’’جب اعتکاف کے لئے مسجد میں ٹھہرے رہناشرط ہےاوراسی وجہ سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کومسجد کے ساتھ ملاکر ذکرفرمایاہےتومعتکف پر لازم ہے کہ وہ انسانی حاجات اور جمعہ کی ادائیگی جیسی ضروریات کے بغیرمسجد سے باہر نہ نکلے۔‘‘(احکام القرآن للجصاص 1 /309)
اورایک حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ :’’آپﷺجب اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو سرمیرے قریب کرتے تو میں ان کو کنگھی کرتی اور آپ ﷺ انسانی حاجت کے بغیر گھرمیں داخل نہ ہوتے۔‘‘(صحیح مسلم (1/ 142)، جامع ترمذی( 1/ 165))
امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ اس حدیث کامقتضایہ ہے کہ بلاضرورت مسجدسے نکلناممنوع ہے۔‘‘(احکام القران للجصاص 1/ 309)
اور امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’علماء کاعمل اسی پر ہے کہ معتکف انسانی ضرورت کے بغیر اعتکاف سے نہ نکلے ۔‘‘(جامع ترمذی 1/ 165)
ایک دوسری حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ :’’حضورﷺ اعتکاف کی حالت میں مسجد سے سر باہرکرتے تو میں آپ کے سر کودھوتی ۔‘‘(صحیح بخاری 1/ 272)
اورسنن ابی داؤد میں یہ حدیث ان الفاظ میں منقول ہے کہ :’’رسول اللہ ﷺمسجد میں معتکف ہوتے تو حجرے کے شگاف سے اپناسر مجھے تھمادیتے ،میں اسے دھولیتی۔‘‘ (حدیث نمبر2469)
ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ:’’معتکف پرلازم ہے کہ وہ نہ بیمار کی بیمارپرسی کرے ،نہ جنازے میں حاضر ہو، نہ عورت کو چھوئے اور نہ ہی اس سے ہمبستری کرے اور نہ ہی مجبوری کے بغیرکسی حاجت کے لئے نکلے۔‘‘(سنن ابی داؤد،حدیث نمبر2473)، مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوجاتاہے قرآن وحدیث کی رُو سے مسجدسے بلاضرورت باہرنکلنے کی وجہ سے سنت اعتکاف ٹوٹ جاتاہے۔
أحكام القرآن للجصاص أحمدبن علي(م: 370هـ)(1/309)دارإحياءالتراث العربي
ولماكان من شرط الاعتكاف اللبث في المسجدوبذلك قرنه الله تعالى عند ذكره في قوله[ولاتباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد]وجب أن لايخرج إلالما لابدمنه من حاجة الإنسان وقضاءفرض الجمعة۔
الصحيح لأبي عبدالله محمدبن إسماعيل البخاري (م: 256هـ)(1/272) محمودية
عن عائشة رضي الله عنها، قالت:كان النبي صلى الله عليه وسلم «يباشرني وأنا حائض،وكان يخرج رأسه من المسجدوهو معتكف،فأغسله وأناحائض»۔
الصحيح للامام مسلم بن الحجاج(م: 261هـ)(1/142)قديمي
عن عائشة، قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم، إذا اعتكف، يدني إلي رأسه فأرجله، وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة الإنسان» السنن لأبي داود سليمان بن الأشعث(م: 275هـ)(2/333،334)المكتبة العصرية۔
2472-عن عائشة -قال النفيلي- قالت: «كان النبي ﷺ يمر بالمريض، وهو معتكف، فيمر كما هو، ولا يعرج يسأل عنه»۔
2473-عن عائشة،أنهاقالت:”السنة على المعتكف:أن لايعودمريضا،ولا يشهد جنازة، ولا يمس امرأة، ولا يباشرها، ولا يخرج لحاجة، إلا لما لا بد منه۔
إعلاء السنن،العلامة ظفراحمدالعثمانی(م:1394ه)(6/ 2920)دارالفکر
ومذهب المحدثین أن الصحابی إذاقال:السنة کذافهومرفوع فثبت کون الحدیث المذکورمرفوعا،والسنة السیرة والطریقة،وذلک قدرمشترک بین الواجب والسنة المصطلح علیها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس