بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مدرسہ کےلیےوقف شدہ مکان کوبیچ کردوسرےکسی مصرف میں استعمال کرنا

سوال

ایک شخص نےاپنی جگہ پرمکان تعمیرکروایا،پھراپنی رہائش دوسری جگہ کرایہ پرلےکرمنتقل کرلی، اوراپنی ذاتی رہائش کواسٹام کےذریعہ مدرسہ کےلیےوقف کردیااوروضاحت بھی کردی کہ یہ مکان دینی مدرسہ کےلیےوقف ہےاورمتولی کی مرضی پراس مکان کوفروخت کرکےاس کی رقم کومدرسہ پرخرچ کردے۔لیکن واقف کچھ عرصے کےبعداپنی ذاتی غرض کےلیےیااپنی رائےسےدوسرےشہرمیں مسجدکی جگہ کےلیے دوبارہ وقف جگہ کوفروخت کرنےکاارادہ رکھتاہے۔پوچھنایہ ہےکہ کیاواقف کی ملکیت باقی رہ جاتی ہےاوریہ کہ وہ اپنی مرضی سےتسلط قائم رکھ سکتاہے؟وضاحت فرمائیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں جورہائش گاہ اورمکان مدرسہ کودیاگیاہے،بظاہرمالک مکان کامقصداورارادہ مدرسہ کوچندہ کےطورپردیناہے،جس کوباقی رکھ کراستعمال کیاجاسکےیابیچ کراس کی قیمت سےمدرسہ کےاخراجات پورےکئےجاسکیں۔اگریہی مرادہے توشرعاًیہ چندہ کےطورپردیاہوامکان عطیہ ہےجووقف کی ملکیت ہے۔اس کاشرعی حکم یہ ہےکہ وہ مکان معطی کی ملکیت سےنکل کرمدرسہ کی ملکیت میں داخل ہوگیاہے،(امدادالاحکام،علامہ ظفراحمدعثمانی رحمہ اللہ(م:1394ھ)(3/220)،اسلام کانظامِ اوقاف ،ڈاکٹرخلیل احمداعظمی ص321) اس لئےجب اس مکان کومدرسہ کےلئے مختص کرد یا گیاہے تواس کواسی مدرسہ کی ضروریات میں ہی استعمال کیاجائے۔مکان کےسابق مالک کوشرعاًاختیارحاصل نہیں کہ وہ اس مکان کوفروخت کرکےکسی دوسرے مصرف میں استعمال کرے۔
الفتاوى الهندية (2/360،399)دارالفكر
إذاشرط في أصل الوقف أن يستبدل به أرضاأخرى إذاشاءذلك فتكون وقفا مكانهم فالوقف والشرط جائزان عندأبي يوسف وكذالوشرط أن يبيعها ويستبدل مكانها… ولوقال:وهبت داري للمسجدأوأعطيتهاله،صح ويكون تمليكافيشترط التسليم۔
   المحيط البرهاني،برهان الدين محمودبن احمد(م: 616هـ)(6/208،213)دارالكتب العلمية
والصحيح من مذهب أبي يوسف في فصل الحصير أنه لا يعود إلى ملك صاحبه بخراب المسجد بل يحول إلى آخر ويبيعه قيم المسجد للمسجد… وفي «مجموع النوازل» : سئل شيخ الإسلام أبو الحسن عن رجل قال: وقفت داري على مسجد كذا، ولم يزد على هذا وسلمها إلى المتولي صح، ولم يشترط التأبيد ولم يجعل آخره للفقراء، قال: وهذا يكون تمليكاً للمسجد وهبة، فيتم بالقبض وإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه يصح، فإن المتولي إذا اشترى من غلة دار المسجد يصح، وكذا من أعطى دراهم في عمارة المسجدونفقة المسجد أو مصالح المسجد يصح، وكذا إذا اشترى المتولي عبداً لخدمة المسجد يصح كل ذلك، فيصح هذا بطريق التمليك بالهبة، وإن كان لا يصح بطريق الوقف۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس