میری بیٹی کانکاح آج سے5سال پہلےہواتھا،نکاح کے فارم کی شق نمبر18میں بلاکسی شرط کےطلاق کاحق تفویض کردیاگیاتھا۔الفاظ یہ تھے”بلاکسی شرط کےطلاق کاحق تفویض کردیاگیاہے”اس حق کواستعمال کرتے ہوئےمیری بیٹی نےیہ الفاظ کہےکہ میں اپنےاوپر3طلاقیں واقع کرتی ہوں۔پوچھنایہ تھاکہ کیامذکورہ صورت میں میری بیٹی کی اس کےسابقہ خاوند سےصلح ہوسکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بیوی کا حقِ طلاق استعمال کرتےہوئےاپنے آپ کوتین طلاقیں دینےسےایک طلاق بائن واقع ہوکرنکاح ختم ہوگیا۔باقی دوطلاقیں لغو(بیکار)ہوگئیں کیونکہ تفویض کےوقت صرف ایک طلاق کاحق تفویض کیاگیاتھا۔ لہذامذکورہ صورت میں حکم شرعی یہ ہےکہ عورت اگرکسی اورشخص سےنکاح کرناچاہےتوعدت گزرنےکےبعدکرسکتی ہے۔اوراگردوبارہ شخصِ مذکورہی سےنکاح کرناچاہےتودوران عدت یاعدت گزرنےکےبعدبہردوصورت نئے مہرکےعوض شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکےنکاح کرسکتی ہے۔ایسی صورت میں شوہرکودوطلاقوں کاحق باقی رہ جائےگا،بشرطیکہ پہلےاورطلاق نہ دی ہو۔نیزایک مرتبہ بیوی کاحق ِطلاق استعمال کرنےکےبعددوبارہ اسےطلاق کاحق حاصل نہیں رہتاجب تک کہ شوہراسےدوبارہ حق ِطلاق سپرد نہ کردے۔