بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حقِ طلاق تفویض کرنےکی صورت میں عورت کااپنےاوپرتین طلاقیں واقع کرنا

سوال

میری بیٹی کانکاح آج سے5سال پہلےہواتھا،نکاح کے فارم کی شق نمبر18میں بلاکسی شرط کےطلاق کاحق تفویض کردیاگیاتھا۔الفاظ یہ تھے”بلاکسی شرط کےطلاق کاحق تفویض کردیاگیاہے”اس حق کواستعمال کرتے ہوئےمیری بیٹی نےیہ الفاظ کہےکہ میں اپنےاوپر3طلاقیں واقع کرتی ہوں۔پوچھنایہ تھاکہ کیامذکورہ صورت میں میری بیٹی کی اس کےسابقہ خاوند سےصلح ہوسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی کا حقِ طلاق استعمال کرتےہوئےاپنے آپ کوتین طلاقیں دینےسےایک طلاق بائن واقع ہوکرنکاح ختم ہوگیا۔باقی دوطلاقیں لغو(بیکار)ہوگئیں کیونکہ تفویض کےوقت صرف ایک طلاق کاحق تفویض کیاگیاتھا۔ لہذامذکورہ صورت میں حکم شرعی یہ ہےکہ عورت اگرکسی اورشخص سےنکاح کرناچاہےتوعدت گزرنےکےبعدکرسکتی ہے۔اوراگردوبارہ شخصِ مذکورہی سےنکاح کرناچاہےتودوران عدت یاعدت گزرنےکےبعدبہردوصورت نئے مہرکےعوض شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکےنکاح کرسکتی ہے۔ایسی صورت میں شوہرکودوطلاقوں کاحق باقی رہ جائےگا،بشرطیکہ پہلےاورطلاق نہ دی ہو۔نیزایک مرتبہ بیوی کاحق ِطلاق استعمال کرنےکےبعددوبارہ اسےطلاق کاحق حاصل نہیں رہتاجب تک کہ شوہراسےدوبارہ حق ِطلاق سپرد نہ کردے۔
    الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(3 /323)سعيد
كمالوجعل أمرهابيدها:لولم تصل نفقتي إليك فطلقي نفسك متى شئت فلم تصل فطلقت كان بائنا،لان لفظة الطلاق لم تكن في نفس الامر
  بدائع الصنائع،علاء الدين الكاساني(م: 587هـ)(3/ 187)العلمية
 فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة -وإن كان بائنا- فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية
  وفيه أيضا(3/ 124)
 أنها أتت بما فوض الزوج إليها وزادت على القدر المفوض فيقع القدر المفوض وتلغو الزيادة كما لو قال لها: طلقي نفسك واحدة فقالت: طلقت نفسي واحدة واحدة واحدة أنه يقع واحدة وتلغو الزيادة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس