بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دین كی زکوٰۃ اداکرنےکےبعدمدیون دیوالیہ ہوجائے

سوال

زید نے عمرو کوادھارپرمال فروخت کیا، عمرونے وقتاً فوقتاًکچھ ثمن کی ادائیگی کی، بقیہ کے بارے میں امیدتھی کہ اسے بھی اداکرے گا، اس وجہ سے زید نے دوتین سال تک اس بقیہ دین کی زکوٰۃ اداکی، لیکن اب عمروکاکہنایہ ہے کہ میں دیوالیہ ہوگیاہوں میں بقیہ پیسے ادانہیں کرسکتا، معلوم یہ کرناہے کہ زید نےجواس وصول نہ ہونے والے دین کی دوتین سالوں تک زکوٰۃ اداکی ہے،کیاوہ اسے آئندہ سالوں کی زکوٰۃ میں شمار کرسکتاہے؟

جواب

زیدنے اس غیروصول شدہ دین کی طرف سے جوزکوٰۃ اداکی ہے، اسے آئندہ سالوں کی زکوٰۃ میں شمار نہیں کرسکتا،کیونکہ وصولی سے قبل اگرچہ اس دین کی زکوٰۃ اداکرنازیدکے ذمہ میں لازم نہیں تھا لیکن وجوبِ زکوٰۃ کا حکم اس سے متعلق ہوچکاتھا،البتہ اگر مقروض قرض سے منکرہوجائے اور بذریعہ عدالت بھی وصولی ممکن نہ ہوتو اس صورت میں انکار کے عرصہ میں جوزکوٰۃ اداکی ہے، اسے آئندہ سالوں کی زکوٰۃ میں محسوب کیاجاسکتاہےیعنی شمارکرکےکٹوتی کی جاسکتی ہے۔
الدر المختار، علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(2 / 266 )سعيد
 (ولا في مال مفقود) …(ودين) كان (جحده المديون سنين) ولا بينة له عليه (ثم) صارت له بأن (أقر بعدها عند قوم) وقيده في مصرف الخانية بما إذا حلف عليه عند القاضي، أما قبله فتجب لما مضى(مصادرة) أي ظلما (ثم وصل إليه بعد سنين)
وفيه أيضًا(2 / 293)سعيد
 (ولو عجل ذو نصاب)زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(2 / 293 )سعيد
 (قوله: لوجوب السبب) أي سبب الوجوب وهو ملك النصاب النامي فيجوز التعجيل لسنة وأكثر كما إذا كفر بعد الجرح
بدائع الصنائع ،علاء الدين الكاساني(م: 587هـ)( 2 / 10)دار الكتب العلمية
 أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة  ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما،فقط۔۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس