بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خاوند، ایک بیٹا اور چار بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ان کے ورثاء میں خاوند، ایک بیٹا(سائل)اور چار بیٹیاں ہیں، جبکہ ان کے والدین ان سے پہلےفوت ہوچکے ہیں، وراثت کی تقسیم شرعاً کیسے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نےبوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد، مکان،سونا، چاندی، نقدی، برتن، کپڑے غرض ہر قسم کاچھوٹا بڑا ساز وسامان چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کاترکہ ہے۔مرحومہ کے کفن ودفن کے اخراجات ترکہ میں سے منہانہیں کئے جائیں گے، بلکہ ان کی ادائیگی مرحومہ کےشوہر کے ذمہ لازم ہے، البتہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو وہ ترکہ میں سے ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں اگر مر حومہ نے غیر وارث کے حق میں کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (۱/۳) کی مقدار تک اس پر عمل کریں۔اس کے بعد بقیہ مال کے کل آٹھ (۸)حصّے کرکےان میں سےدو (۲) حصے مرحومہ کے خاوندکو، دو(۲)حصے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ مرحومہ کی ہربیٹی کو دیدیں۔
تقسیمِ میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے

مسئلہ:4×2=تصـ8                                              مضـ:2

بیٹیاں ۴ بیٹا شوہر
عصبہ ربع
3×6=2 1×2 = 2
4 2 2
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس