مرحومہ کو جو اشیاء مثلاً قالین ، برتن وغیرہ تحفے یاجہیزمیں ملیں یاہمارے نانا،نانی یا ماموں نے کسی موقع پر کوئی رقم دی اور ہماری والدہ نے ان سے برتن یا کوئی اور گھریلو استعمال کی چیز خرید لی ،تقریباً نویں فی صد گھریلو اشیاء والدہ محترمہ کی رقم سے لائی ہوئی ہیں، بقیہ دس فی صد اشیاءبھی لاکر انہیں دی جاتی تھیں اور گھرمیں استعمال ہوتی تھیں ، ان سب اشیاء کے بارے میں تفصیلی حکم مطلوب ہے کہ یہ سب اشیاء ترکہ میں شامل ہوں گی یانہیں؟
جواشیاء والدہ مرحومہ کو تحفہ یاجہیزمیں ملیں یاانہیں رقم تحفے میں ملی اور انہوں نے اس رقم سے جو چیزیں خریدیں وہ سب چیزیں ترکہ میں شامل ہیں، البتہ جوچیزیں گھرکے دیگر افراد خرید کرلائے اور مرحومہ کو مالک بناکر نہیں دیں، بلکہ گھریلو استعمال کے لئے دیں ، وہ ان کی میراث میں نہیں سمجھی جائیں گی ، بلکہ خریدنے والوں کی ملکیت میں ہوں گی۔
تبيين الحقائق ، فخر الدين الزيلعي الحنفي (م: 743 هـ) (6/ 229) المطبعة الكبرى الأميرية
قال – رحمه الله – (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه). والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه۔
المحيط البرهاني ، أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد(م: 616هـ)(7/ 370) دار الكتب العلمية
…لأن ميراث الميت ما تركه الميت۔
(امداد الاحکام،العلامةظفر العثماني التهانوي (م:1394ھ)( 4/ 605) دارالعلوم کراچی)