بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

محض کسی کے نام پر اشیاء الگ کرنے سے ہبہ مکمل نہیں ہوتا

سوال

والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں ہماری دوبہنوں کے نام سے ان کی شادی کے لئے کچھ کپڑے، بستراور زیور وغیرہ تیار کرواکر ان کے نام پر ان کے لئے الگ کرکےرکھوائے تھے، اسی طرح ایک بہن کے لئے کچھ رقم الگ کرکے رکھوائی ، یہ اشیاءاوررقم ان بہنوں کی ملکیت سمجھی جائے گی یامرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگی؟ ایک موقع پر تحفہ میں آئی ہوئی ایک قالین کے بارے میں کہاکہ میں اسے اپنی اس شادی شدہ بیٹی کو دوں گی ، زندگی میں دیا نہیں تھا، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہبہ (گفٹ) مکمل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس کو جو چیز ہبہ کی جائے اسے اس کا مالک وقابض بناکر دینا ضروری ہےکہ جسے ہبہ کیاگیاہے وہ اس چیز کو استعمال کرنے کا حق رکھتاہو، صرف کسی کے نام سے کوئی چیز خریدلینایااس کے لئے بنواکر الگ رکھنا کافی نہیں، لہٰذا سوال میں ذکرکردہ اشیاء برتن ، بستر، زیور ،رقم اور قالین وغیرہ میں آپ کی والدہ کی طرف سے بہنوں کے لئے ہبہ مکمل نہیں ہوا، یہ سب اشیاءمرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوں گی، اگر ان بہنوں کو ان اشیاء کے مالکانہ حقوق مکمل طور پر دئیے جاچکے ہوتے، انہیں تصرف کرنے کا حق حاصل ہوجاتااوروالدہ کا عمل دخل ختم ہوجاتا تب ان اشیاء پر ان کی ملکیت ثابت ہوجاتی ۔ تاہم اگر ورثاء سب عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی خوشی سے اپنی والدہ مرحومہ کی چاہت کی خاطر یہ اشیاء ان بہنوں کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
الدر المختار، علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ) (5 / 690) سعيد
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل
ردالمحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(5 / 690)سعيد
 (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت۔
بدائع الصنائع علاء الدين الكاساني (م: 587هـ) (6 /120)دار الكتب العلمية
معنى القبض هو التمكن، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة۔
الفتاوى الهندية (3/16)دار الفكر
وشرط في الأجناس مع ذلك أن يقول خليت بينك وبين المبيع فاقبضه كذا في النهر الفائق ويشير في التسليم أن يكون المبيع مفرزا  غير مشغول بحق غيره هكذا  في الوجيز للكردري وأجمعوا على أن التخلية في البيع الجائز تكون قبضا۔
(ملاحظہ فرمائیں احکام میت، لمفتی ضیاء الرحمن صاحب)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس