بعض لوگ اپنےبچوں کانام اللہ تعالیٰ کےصفاتی ناموں پررکھتےہیں، جیسے:قادر، رحمٰن، وغیرہ اوربعض لوگ ہرنام کےساتھ لفظ اللہ کااضافہ کردیتےہیں، جیسے:سبحان اللہ،محسن اللہ وغیرہ ایسےنام رکھنے کاکیاحکم ہے؟
الف۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے جونام اللہ کے ساتھ مختص ہیں، جیسے: رحمٰن، رزّاق، غفار وغیرہ ان میں سے کوئی نام لفظ عبد شروع میں لگائے بغیر کسی کے لئے رکھناجائز نہیں، اور جونام اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہیں ، جیسے: قادر، کریم ، رحیم وغیرہ انہیں بندوں کے لئے بغیرلفظ عبد لگائے رکھناجائز ہے۔
ب۔جن ناموں کے آخرمیں لفظ ’’اللہ ‘‘آتاہے، وہ اس شرط کے ساتھ جائز ہیں کہ ان کے معنیٰ درست ہوں، ان میں شرکیہ یا کوئی اورغلط معنیٰ نہ پائے جاتے ہوں، اگرکسی نام میں درست اورغلط دونوں قسم کے معانی کا احتمال ہوتو ایسے نام سے بچنا اور اگررکھ لیاگیاہوتوتبدیل کرنا بہتر ہے۔ لہٰذا’’سبحان اللہ‘‘ اور’’محسن اللہ‘‘ نام نہیں رکھنے چاہئے اور انہیں تبدیل کرلینابہترہے؛ کیونکہ ’’سبحان اللہ‘‘کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تقدیس بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، اگرچہ ان میں یہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ مذکورہ نام والے شخص کی تخلیق بھی اللہ تعالیٰ کے کمالات اور عیوب سے پاک ہونے کا ایک نمونہ ہے۔ اور’’محسن اللہ ‘‘ کا ظاہری اور متبادر معنیٰ’’اللہ تعالیٰ کو اچھابنانے والا یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسان کرنے والا‘‘ہے جوشرعی اعتبار سے درست نہیں ہے، البتہ اس میں درست معانی کا احتمال بھی موجود ہے کہ مثلاً: اسے اضافتِ لامیہ ماناجائےجس کا تقدیرِکلام یہ ہوگا’’محسن للہ ‘‘، اس کامعنیٰ یہ ہے کہ اللہ کی رضااور خوشنودی کے لئے نیکی کرنے والا‘‘تقدیری کلام یوں ہو گا’’محسن باللہ‘‘جس کے معنیٰ ہوں گے ’’اللہ تعالیٰ کی مدد سے نیکی کرنے والا‘‘۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان ناموں میں دونوں طرح کے معانی کا احتمال موجود ہے، اس لئے انہیں قطعاً ناجائز تو نہیں کہا جاسکتالیکن بہرحال متبادراورظاہری معنیٰ کے اعتبار سے بندوں کے لئے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ، تبدیل کرلینا بہتر ہے ۔
تکملۃ فتح الملھم، الشیخ محمدتقی العثمانی(4/ 128 )مکتبہ دارالعلوم کراچی
وقیل: یلتحق بہ أیضاً من تسمی بشیء من أسماء اللہ الخالصۃ بہٖ کالرحمٰن والقدوس والجبار ،وبہٖ ظھر أن ماتعورف فی عصرنا من تلخیص اسم عبد الرحمٰن إلی الرحمن وتلخیص عبد القدوس إلی القدوس لایجوز شرعاً۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ)(6 / 417 ) سعيد
(أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن) وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية۔
رد المحتار ،ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(6/ 417 )سعيد
(قوله وجاز التسمية بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل۔
الموسوعة الفقهية الكويتية (11 / 336) وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية
ومنه يؤخذ حرمة التسمية بجار الله ورفيق الله ونحوهما لإيهامه المحذور.فقط۔