بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گڑیااورتصویر والے کھلونوں کا استعمال

سوال

آج کل تصاویرکارواج عام ہورہاہےگھریلو استعمال کی بعض اشیاءپراورخصوصاًبچوں کے کھلونوں پرکارٹون اورجاندار اشیاء کےخاکےبنےہوئےہوتےہیں توبچوں کےلئے ان کھلونوں کوگھرپر رکھنے سے نمازمیں کوئی خلل واقع ہوتاہےیانہیں؟ اور ان خاکوں کوہٹانےسے نقصان ہوجاتاہے اور پیسوں کاضیاع بھی، اوراصل مقصدبچوں کوبہلاناہوتاہے، ان کوہٹانےسےبچےاس کوقبول نہیں کرتےاوراس کی طرف راغب بھی نہیں ہوتے، حدیث میں جس تصویرکی ممانعت آئی ہےاس کامصداق کیاہے؟

جواب

انسان یاکسی جانورکی شکل میں ڈھال کربنائی گئی مجسم گڑیا،کھلونےیا ایسے کھلونےجن پرجانداراشیاء کی تصاویراس طرح سے واضح ہوں کہ اگروہ زمین پررکھی جائیں اورمتوسط بینائی والاآدمی کھڑے ہوکر دیکھےتوتصاویرکےاعضاءکی تفصیل دکھائی دے، ان کا استعمال اورگھرمیں رکھناجائزنہیں ہے، جس کمرےیاجگہ میں ایسی تصاویرہوں وہاں نمازپڑھنامکروہ تحریمی یعنی  ناجائز  ہے۔ البتہ اگرعام غیر مجسم کھلونوں پربنی ہوئی تصاویراس قدرواضح نہ ہویا سرکٹی ہوئی  تصویرہو یاچہرہ کے اعضاء مٹے ہوئے ہوں توان سے کھیلنا جائز ہے اور ان کےکمرےمیں موجودہونےکی وجہ سےنمازمیں کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
واضح رہےکہ جب مجسم یا غیر مجسم تصاویروالے کھیلونےکااستعمال ناجائز ہے توان کی خریداری سےبچناضروی ہےاوربچوں کےلیے غیرمصورکھلونےمثلاً گاڑی،جہازوغیرہ کی شکل والےکھیلونے خریدلیں،بچوں کی تربیت کابھی یہی تقاضاہےکہ ان کو تصاویر والےکھلونے خرید کر نہ دیئےجائیں۔ نیزیہ سمجھنابھی ضروری ہےکہ مالی نقصان کی وجہ سےناجائزچیزکی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم اگرغیرمجسم تصاویرہوں توان کےچہرےپرقلم یارنگ پھیردینےسےکراہت ختم ہوجائیگی۔
   بہشتی زیورمدلل ومکمل  حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی(حصہ ششم /ص:377)مکتبہ عمرفاروق
(مندرجہ بالا حدیثوں)سےمعلوم ہواکہ بعض  لڑکیاں یاعورتیں جوتصویردارگڑیاں بناتی ہیں یاایسی گڑیاں بازارسےمنگاتی ہیں اورکھلونےمٹی کےیا مٹھائی کےبچوں کےلیےمنگادیتی ہیں یہ سب منع ہیں ۔اپنےبچوں کواس سے روکنا چاہئے اور ایسےکھلونے توڑ دینا چاہئیں اورایسی گڑیاں جلادینی چاہئیں۔(مزیدتفصیل جاننے کےلیے دیکھئے:رسالہ  تصویرکےشرعی احکام،  جواہرالفقہ (7/246تا268)دارالعلوم کراچی وفتاوی محمودیہ(19/503)فاروقیہ)۔
 صحيح البخاري ، محمد بن إسماعيل البخاري(م: 256 هـ)(2 /880)قديمي
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الأعمش، عن مسلم، قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: “إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون”۔
فتح الباري لابن حجرالعسقلانی(م: 852 هـ)(10 / 384) دار المعرفة
قال النووي قال العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد وسواء صنعه لما يمتهن أم لغيره فصنعه حرام بكل حال وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو فلس أو إناء أو حائط أو غيرها۔
  بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني(م: 587هـ)(1/ 115) دار الكتب العلمية
ولو صلى في بيت فيه تماثيل فهذا على وجهين: أما إن كانت التماثيل مقطوعة الرءوس أو لم تكن مقطوعة الرءوس، فإن كانت مقطوعة الرءوس فلا بأس بالصلاة فيه؛ لأنها بالقطع خرجت من أن تكون تماثيل۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(1/ 648)سعيد
وأقره المصنف (أو كانت صغيرة)لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما، وهي على الارض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره، لانها لا تعب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس