بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر انشورنس کمپنی کروائےتوملازم کےلئے علاج کی سہولت لیناکیساہے؟

سوال

مختلف پرائیویٹ کمپنیاں اپنےملازمین کوعلاج کی سہولت مہیا کرنےکےلیےملازمین کی انشورنس کروالیتی ہیں جس کی مکمل قسط کمپنی خود اپنی طرف سےاداکرتی ہےاور انشورنس کمپنی سےملازمین کاکوئی معاہدہ نہیں ہوتا، اگرعلاج کاخرچہ خودکرکےبل اپنی کمپنی کےتوسط سےانشورنس کمپنی سےوصول کرےتواس کاکیاحکم ہے؟ جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ملازم بل اپنی کمپنی کےدفتر میں جمع کروا تاہے، پھرکبھی کمپنی خود اسےفوری رقم دےدیتی ہےاورخود بعدمیں انشورنس کمپنی سےحاصل کرتی ہےاورکبھی انشورنس کمپنی سےلےکرملازم کواداکرتی ہےاور اگر انشورنس کمپنی براہ راست ہسپتال کو ادائیگی کرے تو اس کاکیاحکم ہے؟

جواب

انشورنس کمپنی

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً ملازم خودانشورنس کمپنی سےمعاملہ نہیں کرتا، بلکہ ملازم کی کمپنی اپنے ملازمین کےلئےعلاج کی سہولت مہیاکرنےکےپیشِ نظرخود انشورنس کمپنی سےمعاہدہ کرتی ہےتو اگرچہ  ان دونوں کمپنیوں کےلئےانشورنس کایہ معاملہ کرناجائزتونہیں ہے، لیکن  ملازمین کےلئےعلاج کی سہولت حاصل کرنےکی گنجائش  ہوجائےگی۔ چاہےعلاج کاخرچہ انشورنس کمپنی خود ہسپتال کو اداکرے یاپھرابتداءً  ملازم ہسپتال کو اداکرے اورپھراپنی کمپنی سےوصول کرے۔ ہاں اگرکہیں ایساہوکہ ملازم ہسپتال کورقم ادا کرنے کےبعدبراہِ  راست انشورنس کمپنی سےوصول کرےیا انشورنس کمپنی  اس  کےاکاونٹ میں رقم بھیج دےتوچونکہ انشورنس کمپنی   کی غالب آمدنی حرام ہے  اس لئےملازم کےلئےایساکرناجائز نہیں ہوگا۔البتہ اس صورت میں اگرملازم کوکسی طریقہ سےیہ معلوم ہوجائےکہ میری کمپنی  نےانشورنس کمپنی  کےپاس ملازمین کےعلاج کےلئےجتنی رقم جمع کرائی  ہےاس میں سے اس وقت جتنی رقم باقی ہے،میراعلاج  اسی حدتک  ہوجائےگا تو اس بھی کی گنجائش ہے ۔
 رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(6/ 403)سعيد
 (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔
السنن ،لأبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي(م: 279هـ)(2/ 503)
عن ابن مسعود قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه بحوث في قضايا فقهية معاصرة، مفتي محمد تقي العثماني(2/187) دار العلوم كراتشي۔
           فقد اتفق معظم العلماء المعاصرين و المجامع و الندوات الفقهية على حرمة التأمين التقليدي؛ لمايشتمل عليه من الغرر والقمار والربا.وقد اقتُرح التأمين التكافلي بديلا للتأمين  التقليدي على أن يكون التعامل فيه على أساس التبرع دون المعاوضة .  مزید تفصیل کےلئےدیکھئے: جواھرالفقہ(4/463 تا470) مکتبہ دارالعلوم کراچی، فتاوی عثمانی (3/330)مکتبہ معارف القرآن کراچی)۔
 الفتاوى الهندية (5/ 343) دار الفكر
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها۔
 فقه البيوع، مفتي محمد تقي العثماني (2/1069)معارف القران
فلم يبق من المحكوم عليه بالحلال في أموال الشركة إلا رأس المال. وحينئذ صارت أموال الشركة مخلوطة بالحلال والحرام ….بل يجوز التعامل معها بقدر ما فيها من الحلال فيجوز التعامل المباح مع هذه الشركات بقدر ما عندها من المال الحلال۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس