بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک وارث کااپنےحصہ سےدستبردارہونا

سوال

بیٹے کےانتقال کےبعدوالدہ نےاپناحصہ مرحوم کےبیٹوں یعنی اپنےپوتوں کواس طرح دےدیاکہ عدالت میں جاکرکہاکہ میں اپنےحصےسےدستبردارہوتی ہوں، زمین میں جومیراحصہ ہےوہ بھی پوتوں کےنام کردیں اوراس کاکوئی عوض انہوں نےنہیں لیا اورنہ ہی قبضہ کرایا، بلکہ تقسیم اورقبضہ سے پہلے بلاعوض دستبرداری کابیان دےدیا،کیا اس صورت میں پوتوں کےلیے اس جائیدا کاستعمال کرناجائزہے یانہیں؟

جواب

وارث کا اپنے حصہ سے دستبردار ہونا

صورتِ مسئولہ میں آپ کی دادی صاحبہ کا اپنےمرحوم بیٹےکی میراث میں سےاپنےحصےسے دستبردارہوناشرعاًمعتبرنہیں ، اورآپ ان کےحصےکےمالک نہیں بنے، بلکہ وہ ان کی میراث میں شامل ہوکر ان کے ورثاءمیں شرعی حکم کےمطابق تقسیم ہوگا۔
تبيين الحقائق، فخر الدين الزيلعي (م:743 ھ)(5/508)دارالکتب العلمیۃ
وإن أخرجت الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين، (قوله ولا يتصور الإبراء) أي؛ لأن الإبراء عن الأعيان غير المضمونة لا يصح۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ) (5/ 692)سعید
لا تتم بالقبض فيما يقسم ولووهبه لشريكه أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ) (5/ 692)سعید
(قوله في عامة الكتب) وصرح به الزيلعي وصاحب البحر منح (قوله: هو المذهب) راجع لمسألة الشريك كما في المنح (قوله: وهو المختار) قال الرملي: وجد بخط المؤلف يعني صاحب المنح بإزاء هذا ما صورته، ولا يخفى عليك أنه اختلاف المشهور۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس