بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

منہ بولی بیٹی کے لیے ساری جائیداد کی وصیت کرنااورمیراث کامسئلہ

سوال

مجھے(فرزانہ عابد) ذوالفقاراحمدمرحوم نےتقریباً چارسال کی عمرمیں اپنی بیٹی بناکرپالا، اور میری شادی کی اورساری عمراپنی سگی بیٹی کی طرح رکھا، ذوالفقاراحمدمرحوم نےتقریباًتین سال قبل میرےاوراپنےنام سےمیزان بنک میں ایک اکاؤنٹ کھولاجس کاعنوان (Eiteror Surviovor) یعنی اس اکاؤنٹ کوکوئی ایک یاجوشخص اگرفوت ہوجائےتودوسراستعمال کرسکتاہےاوراس اکاؤنٹ کامالک بھی وہی ہوگا، ذوالفقاراحمدمرحوم کایہ اکاؤنٹ کھولنےکامقصد ہی یہ تھاکہ ان کی موت کےبعداس اکاؤنٹ کاسارا پیسہ فرزانہ عابدکوملےاورانہوں نےبنک کویہ وصیت بھی کی تھی کہ میرےمرنےکےبعدیہ سارا پیسہ میری بیٹی فرزانہ کی ملکیت ہوگی اوربنک کاسٹاف اس کاگواہ ہے، اوریہ وصیت ان کےدوبھائی اوردوبہنوں کوواضح طورپرمعلوم ہےکہ مذکورہ اکاؤنٹ کاسارا پیسہ وہ فرزانہ کےنام کرگئے، ان کی وفات کےبعداس کےبہن بھائی اس بات کا اصرار کررہے ہیں کہ قانونی اورشرعی لحاظ سےذوالفقاراحمدکی زبانی یالکھی ہوئی وصیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لہذایہ سارا اکاؤنٹ ہماری ملکیت ہے۔ اب چونکہ قانونی پیچیدگیوں سےبچنےکےلیےانہوں نےیہ اکاؤنٹ حاصل کرنےکےلیےذوالفقاراحمدمرحوم کےسارےترکہ بمع بنک اکاؤنٹ کوجمع کرکے(6)حصےکرنےکافیصلہ کیاہے،جس میں دوبہن،دوبھائی ،اورمیں (فرزانہ)،اورایک مرحوم بھائی کابرابرحصوں میں تقسیم کرنےکافیصلہ کیاہے، اس فیصلہ سےتقریباًمجھے(40)فیصد سےکم حصہ ملےگاجومرحوم کی وصیت سےمنہاہےاوراس طرح مجموعی طورپران سب کواس سےفائدہ ہوگا۔واضح رہےکہ اکاؤنٹ میں جتنی رقم ہےوہ مرحوم کےکل ترکہ کےایک تہائی سےکافی کم ہے۔
نمبر۱۔کیامیں اس بنک اکاؤنٹ کی شرعی طورپروارث ہوں یانہیں؟
نمبر۲۔ کیاانہوں نےوراثت کی تقسیم کادرست فیصلہ کیاہے؟
نمبر۳۔کیاوراثت کی تقسیم کےتمام اخراجات مجھےاسی بنک اکاؤنٹ سےبرداشت کرنےہوں گےیانہیں؟

جواب

نمبر۱۔صورت مسئولہ میں ذوالفقاراحمدمرحوم نےاگرواقعۃً اس اکاؤنٹ کی آپ کےلیےوصیت کی تھی اورواقعۃً یہ اکاؤنٹ مرحوم کےکل ترکہ کےایک تہائی سےکم ہےتواس اکاؤنٹ میں موجودکل رقم کی آپ حقدارہیں، مرحوم کےورثاءکااس میں کوئی حق نہیں۔بشرطیکہ مرحوم کےذمہ میں دین نہ ہو۔
نمبر۲۔واضح رہےکہ وراثت میں بھائیوں کوبہنوں کےمقابلےمیں دوگناحصہ ملتاہےاورجس بھائی کاانتقال مرحوم کی زندگی میں ہواوہ شرعی وارث نہیں ہےاسی طرح آپ بھی مرحوم کی شرعاًوارث نہیں ہیں کیونکہ آپ مرحوم کی حقیقی بیٹی نہیں ہیں اس لیےمرحوم کےترکہ میں آپ وراثت کےطورپرحقدارنہیں ہیں ،صرف وصیت کی حدتک حقدارہیں، لہذاسوال میں ذکرکردہ وراثت کی تقسیم درست نہیں، بلکہ اس کی تقسیم کاطریقہ یہ ہےکہ اگرمرحوم کےانتقال کےوقت اس کےشرعی وارث صرف دوبھائی اوردوبہنیں تھیں کوئی اورشرعی وارث اس وقت زندہ نہیں تھا تو اکاؤنٹ کےعلاوہ بقیہ ترکہ کےکل چھ حصےکرکےدودوحصےہربھائی کواورایک ایک حصہ ہربہن کودیدیاجائے۔
نمبر۳۔مرحوم نےجب اس اکاؤنٹ کی وصیت آپ کےلیےکی تھی تواس اکاؤنٹ کی آپ ہی حقدارہیں، وراثت کےاخراجات اس سےنہیں لئےجاسکتے۔
قال الله تعالى: [النساء: 176]
{وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}
 الفتاوى الهندية (6/ 90)رشیدیة
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث۔۔
 السراجى،محمد بن عبد الرشید السجاوندی(ص: 5)المكتبة البشرى
قال علماؤنا:تتعلق بترکة المیت حقوق أربعة مرتبة:الأول:یبدأبتکفینه وتجهيزه من غير تبذير ولاتقتير،ثم تُقضي ديونه من جميع مابقي من ماله،ثم تُنَفّذ وصایاه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يُقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس