ایک شخص جوکہ کچھ دکانوں کا مالک ہے لیکن اس کی دکانوں پر کسی دوسرے شخص نے جبرا قبضہ کیا ہوا ہے۔ اب مالکِ مکان قبضہ چھڑوانے کےلئے ایک شخص کو مقرر کرتاہے، اوروہ شخص کچھ دیگر لوگوں کے ذریعے قابض کا سامان وغیرہ باہر نکال کر قبضہ چھڑوائے یامالک اور قابض کے درمیان کچھ پیسوں پر صلح کروا دے تو اب پوچھنا یہ ہے کہ جو بندہ مالک کی طرف سے مقرر ہے وہ اپنے لیے کمیشن رکھ سکتاہے یا نہیں؟
صورت مسؤلہ میں مالک مکان کی جانب سے مقررہ شخص کامذکورہ کام پر اجرت (کمیشن )لینا درست ہے، بشرطیکہ اجرت پہلے سےمتعین ہو اور قبضہ چھڑانے اور دوکان خالی کر وانے پرکوئی ناجائز ، ممنوع اور خلاف ِشرع کام اورکسی قسم کا غیر قانونی اقدام (مار دھاڑ اور ظلم و ستم وغیرہ)نہ کرنا پڑے۔ بلکہ محض ڈرا دھمکا کر ، رعب ودبدبہ سے یا قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ دوکان خالی کرالی جائے تو اس کی اجرت لینا درست ہو گا ۔