بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بھائی کی مطلقہ سے نکاح کرنا اور اسی خاتون کے دونوں شوہروں سے اولاد کا آپس میں نکاح کرنا

سوال

نمبر ۱۔ اگربڑابھائی اپنی بیوی کوطلاق دےپھرچھوٹابھائی اس عورت سےنکاح کرسکتاہےیانہیں؟
نمبر ۲۔ اگربڑابھائی اپنی بیوی کوطلاق دیدےپھرچھوٹابھائی اس عورت سےشادی کرلےاوراس کےہاں لڑکاپیداہوتاہےاورطلاق دینےکےبعدبڑابھائی پھراس عورت سےشادی کرلیتاہےاوراس کےہاں لڑکی پیداہوتی ہے،کیاان دونوں بچوں کےدرمیان رشتہ ازدواج ہوسکتاہےیانہیں؟

جواب

نمبر۱۔ چھوٹابھائی بڑے بھائی کی مطلقہ سے عدت گزرنے کے بعد شادی کرسکتاہے۔
نمبر ۲۔ یہ دونوں (لڑکااورلڑکی) ماں شریک بہن بھائی ہیں،لہٰذا ان کا باہمی نکاح نہیں ہوسکتا۔
فتاوى إسلامية، للجنة الدائمة، مؤلفه محمد بن عبد العزيز(3/ 142) دار الوطن للنشر
حكم نكاح زوجة العم والخال بعد الطلاق أو الوفاة: س – هل تحل زوجة العم (شقيق الأب) لابن أخيه بعد طلاقها؟ وهل تحل زوجة الخال (شقيق الأم) لابن أخته بعد طلاقها؟ ج – تحل للرجل زوجة عمه وخاله بعد طلاقها وكذا زوجة أخيه وابن أخيه إذا طلقها وانقضت عدتها ولا يحرم عليه إلا زوجة ابنه أو زوجه جده أو ابن ابنه فإنها محرمة عليه أبداً
مجمع الأنهر ،عبدالرحمن بن محمد(م:1078ھـ)(1/476)مکتبة المنار
و يحرم أخته لأب وأم، أو لأحدهما
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس