ایک سرکاری قبرستان ہےلوگ اس کےکچھ حصےمیں مردوں کودفن کرتےہیں اوراس میں کافی درخت لگےہوئےہیں جوخودرو ہیں، البتہ ایک طرف کےدرختوں کو اس جانب ملحقہ زمین کےمالک نےدیکھ بھال کرکےمحفوظ کررکھاہے اس شخص کاکہناہےکہ میں ان درختوں کواستعمال کرنےکاحق رکھتاہوں، جبکہ قبرستان کےایک جانب مدرسہ ہےمدرسہ کےمنتظم کاکہناہےکہ یہ درخت مدرسہ کےطلباءکاحق ہیں ۔ کیامذکورہ صورت میں قبرستان کےدرختوں کوکاٹ کراپنےاستعمال میں لانا کس فریق کےلیےجائزہے؟
صورتِ مسئولہ میں جوجگہ سرکاری طورپرعرصہ ہائےدرازسےقبرستان کےلیےمقررہے، وہ شرعاً قبرستان کےلیےوقف سمجھی جائےگی۔لہذامذکورہ قبرستان میں موجودتمام خودرو درختوں میں عوام کواپنی مرضی سےتصرف کی اجازت نہیں ہے، متعلقہ محکمہ کےذمہ داران وقف کی مصلحت کوسامنےرکھتےہوئےان درختوں کوفروخت کرکےحاصل ہونےوالی آمدنی اسی قبرستان کی دیگرضروریات میں خرچ کرسکتےہیں۔ واضح رہےکہ مذکورہ وقف درختوں پرکسی شخص کاکوئی ذاتی حق نہیں، نہ تومدرسہ کےطلباء کااورنہ ہی قریبی زمین کےمالک کا۔نیز اللہ کی رضا کی خاطردرختوں کی دیکھ بھال کرنےوالاشخص بلاشبہ اجروثواب کامستحق ہے،مگراس دیکھ بھال کی بناء پراس کاحق ان درختوں کےساتھ متعلق نہیں ہوگا۔