بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قبرستان کےدرختوں کاحکم

سوال

ایک سرکاری قبرستان ہےلوگ اس کےکچھ حصےمیں مردوں کودفن کرتےہیں اوراس میں کافی درخت لگےہوئےہیں جوخودرو ہیں، البتہ ایک طرف کےدرختوں کو اس جانب ملحقہ زمین کےمالک نےدیکھ بھال کرکےمحفوظ کررکھاہے اس شخص کاکہناہےکہ میں ان درختوں کواستعمال کرنےکاحق رکھتاہوں، جبکہ قبرستان کےایک جانب مدرسہ ہےمدرسہ کےمنتظم کاکہناہےکہ یہ درخت مدرسہ کےطلباءکاحق ہیں ۔ کیامذکورہ صورت میں قبرستان کےدرختوں کوکاٹ کراپنےاستعمال میں لانا کس فریق کےلیےجائزہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جوجگہ سرکاری طورپرعرصہ ہائےدرازسےقبرستان کےلیےمقررہے، وہ شرعاً قبرستان کےلیےوقف سمجھی جائےگی۔لہذامذکورہ قبرستان میں موجودتمام خودرو درختوں میں عوام کواپنی مرضی سےتصرف کی اجازت نہیں ہے، متعلقہ محکمہ کےذمہ داران وقف کی مصلحت کوسامنےرکھتےہوئےان درختوں کوفروخت کرکےحاصل ہونےوالی آمدنی اسی قبرستان کی دیگرضروریات میں خرچ کرسکتےہیں۔ واضح رہےکہ مذکورہ وقف درختوں پرکسی شخص کاکوئی ذاتی حق نہیں، نہ تومدرسہ کےطلباء کااورنہ ہی قریبی زمین کےمالک کا۔نیز اللہ کی رضا کی خاطردرختوں کی دیکھ بھال کرنےوالاشخص بلاشبہ اجروثواب کامستحق ہے،مگراس دیکھ بھال کی بناء پراس کاحق ان درختوں کےساتھ متعلق نہیں ہوگا۔
الفتاوى الهندية (2/ 473)دارالفکر
مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعد ا تخاذ الأرض مقبرة. ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا  لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة،  ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في الواقعات الحسامية
 فتاوی قاضی خان ،حسن بن منصور، المعروف قاضی خان (م:592هـ)(3/189)رشیدیة
وإن نبت الأشجارفیھابعداتخاذالأرض مقبرۃ،فإن علم غارسھاکانت للغارس،وإن لم یعلم الغارس فالرای فیھایکون للقاضی:إن رای أن یبیع الأشجارویصرف ثمنھاإلی عمارۃ المقبرۃ،فلہ ذلک ویکون فی الحکم کأنھاوقف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس