بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نكاح پڑھانےکی اجرت لینا/دینا

سوال

کیا نکاح پڑھانے کی اجرت لینا جائز ہےیانہیں؟

جواب

نکاح پڑھانےکی اجرت لینا اوردیناجائزہےمگراجرت جانبین کی باہمی رضامندی سےطےکی جائے،زبردستی یااپنےمنصب سےفائدہ اٹھاتےہوئےاتنی رقم متعین نہ کی جائےجس میں اجرت دینے والے کی رضاشامل نہ ہواوروہ شرمندہ  ہوکر دینےپرمجبورہوجائے۔
مرقاة المفاتيح ، الملا علي  القاري (م: 1014هـ)(5/1974) دار الفكر
قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» ۔۔
الفتاوى الهندية (3/ 345) دارالفکر
كل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه، وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه۔
خلاصۃ الفتاوی،طاهر بن عبد الرشيد(م: 1394هـ)(4/48)رشيدية
ولایحل له أخذ شیئ علی النکاح إن کان نکاحا یجب علیه مباشرته كنکاح الصغائر،وفی غیره یحل۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

3

/

52

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس