بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں تقسیمِ جائیداد

سوال

والداگر اپنی زندگی میں اولادکےدرمیان اپنی جائیداد تقسیم کرناچاہےتوکیاشرعاً اس کی اجازت ہے؟اوراگراجازت ہےتوتقسیم باہم برابری کی بنیادپرہوگی یاکسی ایک کوکمی زیادتی کےساتھ دےسکتاہے؟کم یازیادہ دینےکامعیار کیاہوگا؟

جواب

اگرکوئی شخص اپنے گھریلو حالات کی بناپر اپنی صحت کی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہےتو شرعاً ایسا کر سکتاہے لیکن واضح رہے کہ یہ میراث نہیں کہلائے گی بلکہ ہبہ(گفٹ) کہلائے گا(کیونکہ شرعاًمیراث کی تقسیم وفات کے بعد ہوتی ہے) اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلےتقسیم کرنے والاشخص اپنی بقیہ زندگی کے لئے بقدرِ ضرور ت مال رکھ لے تا کہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے ، اس کے بعد بقیہ حصہ بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کر دیں، یہ افضل ہےاور اگر میراث کے اصول کے پیشِ نظر بیٹی کو بیٹے کے حصّے سے آدھا دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہےنیزیہاں یہ بات بھی ذہن نشین فرمالیں کہ اگر اولادمیں سےکوئی زیادہ فرمانبرداریاخدمت گزار ہویانیک ہو یاتعلیم میں مشغول ہونےیاعیالدارہونےکی وجہ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو اس صورت میں اس کو دوسروں سے کچھ زیادہ دینا بھی درست ہے، ایسی صورت میں برابری ضروری نہیں ہے، اگرچہ دیگرورثاء کو اس کی وجہ سے ضرر لاحق ہو،کسی معتبر وجہ کے بغیرمحض دوسروں کاحصہ کم کرنےکی غرض سے کسی وارث کو زیادہ دینادرست نہیں ہے،گناہ ہے، لیکن اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ جس کو جو کچھ دیا جائےاس سے ہرنوع کاتعلق ختم کرکےباقاعدہ عملاًتقسیم کرکے مالک وقابض بناکر دیاجائے، صرف کاغذات میں نام کرادینا یا مشترکہ طور پر دینا کافی نہیں، البتہ وہ چیزیں جو تقسیم کرنے سے قابلِ استعمال نہیں رہتیں جیسا چھوٹا گھر،مشینیں وغیرہ انہیں مشترکہ طور پر ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
تکملة فتح الملهم الشیخ محمدتقی العثمانی (2/46)دارالعلوم کراچی
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف: أن الوالد إن وهب لأحد أبنائه هبة أکثر من غيره اتفاقا أو بسبب علمه أو عمله أو بره بالوالدين من غير إن يقصد بذلک إضرار الآخرين، لا الجور عليهم، کان جائزا علي قول الجمهور وهو محمل آثار الشيخين وعبد  الرحمن بن عوف، أما إذا  قصد  الوالد  الإضرار أو تفضيل أحد الأبناء علي غيره بقصد التفضيل من غيرداعية مجوزة لذلک فإنه لايبيحه أحد۔
 الفتاوى الهندية (4/ 391) دارالفکر
 ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض … وروي عن أبي حنيفة  رحمه الله تعالى  أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين….عن أبي يوسف  رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم۔
    البحر الرائق  ،ابن نجيم المصري (م: 970هـ)(7/288) دار الكتاب الإسلامي
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس