بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تفویض ِ طلاق کامسئلہ

سوال

شوہرنےنکاح کےبعدویزہ حاصل کرنےکی ضرورت کےپیشِ نظراورقانونی تقاضےکو پورا کرنے کےلئےنکاح نامہ میں یہ الفاظ لکھنےکی اجازت دی”جی ہاں طلاق کاحق تفویض کردیاہےبغیرکسی شرط کے”عورت نےکافی عرصہ گزرنےکےبعدیوں کہاں”میں اپناحق استعمال کرتےہوئےاپنےآپ کوتین طلاقیں دیتی ہوں” اب پوچھنا یہ ہےکہ مذکورہ الفاظ سےواقع ہوگی یانہیں اگرواقع ہوئی توکتنی طلاقیں ہوئیں؟

جواب

صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ عورت پرصرف ایک طلاق بائن واقع ہوکرنکاح ختم ہوگیاہے۔اب عورت کی رضامندی سےنئےمہرکےساتھ دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے۔تاہم واضح رہےکہ آئندہ شوہرکےلئے صرف دوطلاقوں کاحق باقی رہےگا۔
الدر المختار، علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ)(3/323)سعيد
بخلاف لتطلقي نفسك أو حتى تطلقي فهي بائنة كما لو جعل أمرها بيدها لو لم تصل نفقتي إليك فطلقي نفسك متى شئت فلم تصل فطلقت كان بائنا لأن لفظة الطلاق لم تكن في نفس الأمر۔
    البحر الرائق ،ابن نجيم المصري (م: 970هـ) (3/ 341 )دار الكتاب الإسلامي
 (قوله: أمرك بيدك في تطليقة أو اختاري تطليقة فاختارت نفسها طلقت رجعية) لأنه جعل لها الاختيار بتطليقة وهي معقبة للرجعة، والمقيد للبينونة إذا قرن بالصريح صار رجعيا كعكسه نحو أنت طالق بائن يصير بائنا قيد بقوله في تطليقة لأنه لو جعل أمرها بيدها لو لم تصل نفقتي إليك تطلقي نفسك متى شئت فلم تص فطلقت قال: يكون بائنا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس