میری پرچون کی دکان ہے اورمیرے ساتھ چھوٹا بھائی بھی ہوتاہے، ہم دونوں کےدرمیان جھگڑاہوگیا، چھوٹےبھائی نے کہا کہ میں کراچی جاتاہوں۔ میں نےاپنےبھائی سےکہا کہ تم جاؤ اور مجھ پر میری بیوی طلاق ہو اگر میں اس دکان میں جاؤں ۔ اصل میں میں نےاس ارادےسےطلاق کےالفاظ نہیں کہےکہ ہمیشہ اس دکان میں نہیں جاؤں گا، بلکہ اس ارادے سےکہے کہ اگر تم مجھےچھوڑ کرکراچی گئےتومیں بھی یہ دکان نہیں چلاؤں گا اوربعد میں بھائی کراچی جانےسےرک گیا،کیا اب میں دکان چلاسکتا ہوں یانہیں؟
:فی الدر المختار محمد بن علي،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ) (3/ 761 )ط: سعيد
(وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب(فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة – رحمه الله – بإظهارها ولم يخالفه أحد۔
:رد المحتار ،ابن عابدين، محمد أمين بن عمر، الدمشقي (م: 1252هـ) (3/761 )ط: سعيد
تهيأت للخروج، فحلف لا تخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لا يحنث لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال إن خرجت الساعة۔