بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امین کہتاہےکہ” مجھےامانت کاکچھ اتا پتہ نہیں”توضمان کس پر ہوگا؟

سوال

صورت ِمسئلہ یہ ہےکہ مدرسہ کےایک ذمہ دارنےمدرسہ کےکھربائی کومدرسہ کےلئے سامان لانےکیلئےکچھ پیسےدیے۔ اب ان روپوں کاکچھ اتا پتہ نہیں ہےاور نہ ہی وہ کام ہوا جس کےلئے روپے دیے تھے اگر چہ وہ شخص متعین ہےمگراس کاکہنایہ ہےکہ مجھےاس کےحوالےسے کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ اب پوچھنا یہ ہےکہ ان روپوں کا ضمان کس پر ہوگا، کھربائی پریامنتظم مدرسہ پر ؟

جواب

اگرسوال میں ذکرکردہ شخص اس بات کوتسلیم کرتاہےکہ اس نےذمہ دارسےرقم وصول کی تھی مگراب اس رقم کاکچھ اتاپتہ نہیں ہےتواس رقم کی ادائیگی اسی کھربائی پرلازم ہوگی۔
:الفتاوى الهندية (4/ 342 )ط:  دار الفكر
ولو قال: لا أدري أضاعت أو لم تضع، لا يضمن، ولو قال: لا أدري أضعتها أو لم أضع يضمن… ولو قال: نسيت ولا أدري في أي حانوت وضعت، يكون ضامنا، كذا في فتاوى قاضي خان۔
:دررالحکام شرح مجلۃالاحکام ،الشیخ علی حیدر(2/266)المکتبۃ العربیۃ
الودیعة أمانة بیدالمستودع بناءًعلیه إذاهلکت أوفقدت بدون صنع المستودع وتعدیه وتقصیره فی الحفظ لا یلزم الضمان۔
:الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ(6/200)رشيدیة
ولوقال:وضعتهابین یدی،وقمت نسیتها فضاعت یضمن۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس