بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چارتولہ سونااورکچھ نقدی کی صورت میں زکوٰۃ کاحکم

سوال

ہمارےپاس ایک گھرگروی ہے،جس کی قیمت تقریباً چھ لاکھ روپےہے،جس میں میراحقِ مہر(90ہزارروپے)بھی شامل ہے،باقی پیسے شوہر کے ہیں اور میرےپاس چارتولہ سونےکاایک سیٹ بھی ہے، اس کےعلاوہ میرےپاس نہ کوئی خرچہ ہےاورنہ ہی کوئی اورچیز ۔کیامیں زکوٰۃ لےسکتی ہوں یانہیں؟ کیااس کی زکوٰۃ میرےذمہ ہوگی یانہیں؟
نوٹ:میرے شوہرکی طرف سےجو زیورمجھےپہنایا گیاتھا، وہ اب بھی انہی کےپاس ہےاور دینے سے انکار کردیااورکہناکہ یہ تمہارانہیں تھا،بلکہ لوگوں کودکھانےکےلیے پہنایا گیاتھا۔ مکان گروی پر لینے کی وجہ یہ ہے کہ کرایہ پرمکان لےنہیں سکتےتھےاسی لیے گروی پرمکان لیے رکھا ہےاور میری شادی سےپہلےہی میرے شوہر نےاپنامکان جوکہ سمن آبادمیں تھا دس ،بارہ سال پہلےہی بیچ دیاتھابوجہ بہن کی شادی کے،اس کےجوپیسےبچے تھے، اس سےہم نےگروی پرمکان لیا اوریہ بھی شوہرکی مرضی تھی کیونکہ اورکوئی راستہ نہیں تھااس لیےزبردستی انہوں نےمیرےزیورکوبیچ کر رقم اسی میں ڈال دی تھی۔

جواب

نمبر ۱ ۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق زکاۃکاحق دار ہونے اوراس کے لینے کےجواز کے لئے شریعت کا اصول یہ ہے کہ جس کو زکاۃ دی جائے اس کی ملکیت میں ” ساڑھے باون (۵ ء۵۲) تولہ چاندی “یا اس کی مالیت کے بقدر روپیہ یاسامان ِتجارت یا ضروریات سےزائد کپڑے،فرنیچروغیرہ نہ ہو یا کچھ روپیہ،کچھ سونا، کچھ چاندی کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر اس کی ملکیت میں نہ ہو۔(فتاویٰ عثمانی :۲/ ۱۳۵، مکتبہ معارف القرآن کراچی)اگر کسی کے پاس “ساڑھے باون تولہ چاندی “کی قیمت کے بقدر روپیہ، سونا، چاندی وغیرہ ہوتو وہ بجائے زکاۃ کا حق دار ہو نے کے خود صاحب نصاب ہو نے کی وجہ سےشریعت کی رو سے اس پر زکاۃ کی ادائیگی لا زم ہو جاتی ہے ۔
لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگر آپ کے پاس 4 تولہ سونا کے ساتھ کچھ نقدی (جیب خرچ یا بینک بیلنس وغیرہ)بھی ہوتو دونوں کی مجموعی مالیت “ساڑھے باون تولہ چاندی “کی قیمت سے زیادہ ہو نے کی وجہ سےخود آپ پر شرعاً زکاۃ کی ادائیگی واجب ہے۔ باقی رہا آپ کا مہرجس کی مالیت ۹۰ ہزار روپے ہے اوروہ قرض پر دیا ہو ا ہے ؛اس پر زکاۃ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ کو فی الحال ان ۹۰ ہزار روپے کےملنے کی امید ہو تو اس کا بھی حساب لگا کر زکاۃا دا کی جا ئے ۔ ورنہ جب وہ رقم آپ کو مل جا ئے ،اس وقت گذشتہ تمام سالوں کا حساب لگاکر زکاۃ ادا کر نی ہو گی ۔
نمبر ۲۔جو سوناآپ کے شوہر کی طرف سے آپ کو پہنایا گیاتھا، ان کے کہنے کے مطابق جب وہ آپ کو ملکیتاً نہیں پہنایا گیا تھا اورآپ کو اس کے ملنے کی کو ئی امیدبھی نہیں ہے تو اس کی زکاۃ کی ادائیگی آپ پر شرعا ًلازم نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ آج کل عموما لوگ دوسروں کو قرض دیکراس کے بدلہ زمین یا تعمیر شدہ مکان گروی پر لے لیتے ہیں جس سے ان کا مقصد نفع اٹھانا ،اس میں رہائش رکھنا وغیر ہ ہی ہو تا ہے ،یہ بالکل ناجائز ،حرام اور سود کے حکم میں ہے ، اس سے خود بھی بچنا چاہئے اورجس حد تک ممکن ہو اس کے رواج کو روکنا چاہیے۔ (مأ خذہٗ : فتاویٰ عثمانی ۳/۴۲۳، مکتبہ معارف القرآن کراچی)لہٰذا صورت مسؤلہ میں آپ نے جو مکان بطور گروی لینے کا معاملہ کر رکھا ہے وہ ناجائز ہے ،اس کو ختم کر نا ضروری ہے ۔
الدر المختار،للعلامةعلاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(2/339تا343) سعيد
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر…(هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) على المذهب…(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير
ردالمحتار، العلامة ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(3/339) سعيد
(قوله: هو فقير) قدمه تبعا للآية ولأن الفقر شرط في جميع الأصناف إلا العامل والمكاتب وابن السبيل ط (قوله: أدنى شيء) المراد بالشيء النصاب النامي ۔۔ والأظهر أن يقول من لا يملك نصابًا ناميًا ليدخل فيه ما ذكره الشارح… (قوله: أي دون نصاب) أي نام فاضل عن الدين، فلو مديونا فهو مصرف كما …(قوله ومديون) هو المراد بالغارم في الآية وذكر في الفتح ما يقتضي أنه يطلق على رب الدين أيضا فإنه قال والغارم من لزمه دين أو له دين على الناس لا يقدر على أخذه وليس عنده نصاب،الخ (قوله: لا يملك نصابا) قيد به؛ لأن الفقر شرط في الأصناف كلها إلا العامل وابن السبيل إذا كان له في وطنه مال بمنزلة الفقير بحر… (قوله: أولى منه للفقير) أي أولى من الدفع للفقير الغير المديون لزيادة احتياجه
الدر المختار(2/ 260تا303) سعيد
فارغ عن دين له (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب… الخ (وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية…الخ
ردالمحتار(2/260) سعيد
(قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته…الخ
الدر المختار(6/482تا522) سعيد
(لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا… أباح الراهن للمرتهن أكل الثمار أو سكنى الدار أو لبن الشاة المرهونة فأكلهالم يضمن وله منعه، ثم أفاد في الأشباه أنه يكره للمرتهن الانتفاع بذلك،وسيجيء آخر الرهن… ثم نقل عن التهذيب أنه يكره للمرتهن أن ينتفع بالرهن وإن أذن له الراهن. قال المصنف: وعليه يحمل ما عن محمد بن أسلم من أنه لا يحل للمرتهن ذلك ولو بالإذن لأنه ربا. قلت: وتعليله يفيد أنها تحريمية فتأمله
رد المحتار(6/482تا523)سعيد
(قوله سواء كان) أي الانتفاع (قوله من مرتهن أو راهن) الأول مصرح به في عامة المتون… وقد مر ذلك آخر الغصب فراجعه… (قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم. قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة، وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى: إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس اهـ …. أقول: ما في الجواهر يصلح للتوفيق وهو وجيه، وذكروا نظيره فيما لو أهدى المستقرض للمقرض، إن كانت بشرط كره وإلا فلا، ۔۔۔ قال ط: قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع، والله تعالى أعلم اهـ….. الخ (قوله وعليه يحمل إلخ) بأن يراد من نفي الحل الكراهة ۔۔۔أقول: ما قدمناه عن المنح هناك ومثله في غيرها موافق لما هنا ولعل النسخ مختلفة (قوله قلت إلخ) ظاهره تسليم القول بالكراهة مع الإذن وأنه ربا، ومقتضاه أنه مضمون، لكن قدمنا عن المنح أول الرهن أنه مخالف لعامة المعتبرات، وتقدم بيان ذلك كله مستوفى فراجعه۔ فقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس