ایک آدمی کی شادی ہوئےکافی عرصہ گزرچکاہے،لیکن ابھی تک ان کی کوئی اولادنہیں ہوئی،کیاوہ اس کےلئےٹیسٹ ٹیوب کرواسکتےہیں یانہیں؟
اولاد حاصل کرنےکےمقصدکےپیش نظر اگرشوہرکامادۂ تولیدانجکشن وغیرہ کے ذریعہ بیوی کے رحم میں پہنچادیاجائے یاشوہر و بیوی کے مادہ حاصل کئے جائیں اورٹیوب میں مخصوص مدت تک ان کی پرورش کی جائے پھراسی بیوی کے رحم میں اسے منتقل کردیاجائےتواس طرح کرنےکی شرعاً گنجائش ہے، بشرطیکہ اس عمل میں مندرجہ ذیل شرعی محظورات سے بچنے کااہتمام کیاگیا ہو:
نمبر ۱۔ہر مرحلے میں ستروحجاب کاپوراپورا اہتمام کیاگیا ہو،مثلاً بیوی سے مادۂ تولید لینے اور دوبارہ رحم میں ڈالنے کاکام خاتون ڈاکٹر سے لیاجائے۔
نمبر ۲۔حتی الامکان مرد سے مادۂ تولیدانجكشن کے ذریعہ حاصل کیاجائے اوراگراس کاحصول بذریعہ انجکشن ممکن نہ ہو تو جلق(مشت زنی)کے ذریعہ حاصل کرنے کے بجائےاپنی بیوی سے عزل کے ذریعہ حاصل کیاجائے۔
نمبر ۳۔ ہر ممکن وضروری تدابیر اختیار کی جائیں جس سے اختلاط نسب کااندیشہ نہ ہو۔
نیزواضح رہے کہ کسی عورت کے رحم میں اس کے شوہرکے علاوہ کسی اور مرد کی منی ڈالنا(چاہے یہ دو اجنبی مادے کسی ٹیوب میں خلط کرکے عورت کے رحم میں ڈالے جائیں یابراہِ راست کسی اجنبی مردکامادہ منویہ عورت کے رحم میں ڈالاجائے) سراسر ناجائز اورحرام ہےاوراس کی کسی حال میں اجازت نہیں ہے،اس سے بچنا واجب ہے۔
المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة(م: 235هـ) (4 / 28 ) مكتبة الرشد
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فلا يسقين ماءه زرع غيره۔
الفتاوى الهندية (4 /114) رشيدية
رجل عالج جاريته فيما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماءه في شيء فاستدخلته في فرجها فعلقت عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أن الولد ولده وتصير الجارية أم ولد له، كذا في فتاوى قاضي خان۔
رد المحتار، العلامة ابن عابدين الشامي (م: 1252هـ)(3 / 528 ) سعيد
إذا عالج الرجل جاريته فيما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماءه في شيء فاستدخلته في فرجها في حدثان ذلك فعلقت الجارية وولدت فالولد ولده، والجارية أم ولد له.فقط۔