ایک بندہ کومشت زنی کی عادت تھی کئی مرتبہ قسم اٹھانےاورتوبہ کرنےکےباوجوداس بدفعلی کا مرتکب ہوتا،ایک مرتبہ اُس نےمشت زنی کی اورفوراًکہا،کہ اگرمیں نےدوبارہ یہ کام کیاتومیری عورت کوطلاق ہوگی،لیکن اُس کےدل میں شک(وسوسہ)پیداہواکہ میں نےمذکورہ جملہ صحیح اداکیاہےیانہیں،اسی جملہ کو دہرانےکیلئےدوبارہ کہا(یعنی پہلےجملہ کوصرف پکاکرنےکےلیے کہا)یعنی اس کادومرتبہ جملہ کہنےکاارادہ نہ تھا۔اس کا ارادہ تھاکہ مشت زنی کی عادت مجھ سےچھوٹ جائے۔اورجب کہ بندہ کاارادہ عورت کوطلاق دینےکانہ تھا۔یہ طلاق کالفظ اس لیےبولاتاکہ میں اس بد فعلی سےرُک جاؤں۔کیونکہ میراعورت کےساتھ کوئی جھگڑانہ تھانہ ہی نفرت جب کہ میراصرف نکاح ہےابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی توآیااس صورت میں طلاق واقع ہوئی یانہیں اگر طلاق واقع ہوگی تو کونسی واقع ہوئی،رجعی ہوگی یا بائن دونوں صورتوں کی وضاحت کردیں ؟ نوٹ : بندہ کو لفظِ طلاق ابھی تک ایک مرتبہ یاد ہےاورنکاح کےبعد خلوت صحیحہ بھی نہیں پائی گئی