بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سودی بینک کو عمارت کرایہ پردینا

سوال

کوئی شخص اپنی ذاتی عمارت کسی سود ی بینک کوکرایہ پردےجبکہ قوی امکان اورظن غالب یہ ہوکہ وہ عمارت سود ی کاروبارمیں استعمال ہوگی۔کیابینک سےاس طرح کامعاملہ کرنا درست ہے ؟

جواب

جب اس عمارت کوسود ی کاروبارمیں استعمال کئےجانےکاقوی امکان اورظن غالب ہےتوایسی صورت میں اسےسود ی بینک کوکرایہ پردیناموجب گناہ،ناجائزاورمکروہ تحریمی ہےجس سےاجتناب لازم ہے ۔
المبسوط لأبي بكر محمد بن أحمد شمس السرخس (م:490هـ) (16/38)رشیدیة کوئتة
وإذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز؛ لأنه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما۔
 فقه البيوع ، مفتي محمد تقي العثماني(1/186)معارف القران
وعلى خذا يخرج حكم بيع البناء أو إجارته لبنك ربوي؛ فإن قصد البائع الإعانة، أو صرح في العقد بكونه يستخدم للأعمال الربوية، حرم البيع وبطل۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس