بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سکول ،ہسپتال اور میدان کے درختوں کے پھلوں کا حکم

سوال

آجکل شہروں اوردیہاتوں میں سرکاری جگہیں مثلا:سکول،ہسپتال،لہوولعب کےگراؤنڈ، سڑکیں،اوردیگرتفریحی مقامات ہیں انکےاندراوراردگردحکومت کی طرف سےانکی تزیین وخوبصورتی کیلئے پھلوں والےدرخت مثلًا:جامن،شہتوت وغیرہ اورپھول لگائےگئےہیں مذکورہ اشیاءمیں سےکوئی شخص اگراپنے ذاتی استعمال کیلئے ،بغیرکوئی نقصان کئےکوئی پھل پھول وغیرہ توڑلےتوکیااس کےلئےیہ جائزہے یاناجائز؟ اگرناجائز ہے توپھراس کی تلافی کی کیاصورت ہوگی؟اوریہ بات بھی پیش نظررہےکہ ان پھلوں کو کوئی بھی استعمال میں نہیں لاتا ،یونہی ضائع ہوجاتے ہیں اور توڑلینے میں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔اوربسا اوقات کسی آفت سماوی کی وجہ سے یہ درخت وغیرہ کبھی مکمل گرجاتے ہیں اور کبھی کوئی حصہ ٹوٹ جاتا ہے دیہاتوں میں تو لوگ ان کو اٹھا کر گھروں کو لے جاتے ہیں کیا ان کےلئے ایسا کرنا جائز ہے ؟ وضاحت:      بندہ کی مراد ان پھلوں کو توڑنے سے ان درختوں کے پھل ہیں جو سرکاری ٹھیکے پر نہیں ہوتے بلکہ ان کی دیکھ بھال  کی طرف کوئی خاص توجہ ہی نہیں کی جاتی اور ان کے پھل ضائع ہوجاتے ہیں ان درختوں کے پھل  کھالینے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

جواب

 وہ پھل جن کی سرکار کی طرف سے دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام نہیں ہوتا اور وہ ٹھیکے وغیرہ پر بھی نہیں دیےجاتےاورحکومت کی طرف سےان کواستعمال کرنےسےکسی کوروکابھی نہیں جاتاایسےدرختوں کےپھلوں کواستعمال کرنےکی گنجائش ہے۔البتہ جن درختوں کی دیکھ بھال اورحفاظت کاحکومت کی طرف سے انتظام ہوتاہے،ٹھیکےپردیےجاتےہیں یاان کےاستعمال سےمنع کیاجاتاہےیاایسےپھول جوباغات کی خوبصورتی اور تزیین کےپیش نظرلگائےجاتےہیں اور ان پر نگران بھی مقررکئے جاتےہیں ان کاتوڑنادرست نہیں ہے۔

 

رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (4/284) سعید
وحاصل ما في شرحها عن الخانية وغيرها أن الثمار إذا كانت ساقطة تحت الأشجار، فلو في المصر لا يأخذ شيئا منها ما لم يعلم أن صاحبها أباح ذلك نصا أو دلالة؛ لأنه في المصر لا يكون مباحا۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (4/401) سعید
ثم إن أرض اليتيم في حكم أرض الوقف كما ذكره في الجوهرة، وأفتى به صاحب  البحر والمصنف كذا أرض بيت المال كما أفتى به في الخيرية وقال من كتاب الدعوى إن أراضي بيت المال جرت على رقبتها أحكام الوقوف المؤبدة۔
الفتاوى الهندية (2/290) رشیدیة کوئتة
إذا مر في أيام الصيف بثمار ساقطة تحت الأشجار فهذه المسألة على وجوه إن كان ذلك في الأمصار لا يسعه التناول منها إلا أن يعلم أن صاحبها قد أباح ذلك إما نصا أو دلالة بالعادة… وهذا الذي ذكرنا كله إذا كانت الثمار ساقطة تحت الأشجار، فأما إذا كانت على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذه في موضع ما إلا بإذن المالك إلا إذا كان موضعا كثير الثمار يعلم أنه لا يشق عليهم ذلك فيسعه الأكل ولا يسعه الحمل، كذا في المحيط۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس