آجکل شہروں اوردیہاتوں میں سرکاری جگہیں مثلا:سکول،ہسپتال،لہوولعب کےگراؤنڈ، سڑکیں،اوردیگرتفریحی مقامات ہیں انکےاندراوراردگردحکومت کی طرف سےانکی تزیین وخوبصورتی کیلئے پھلوں والےدرخت مثلًا:جامن،شہتوت وغیرہ اورپھول لگائےگئےہیں مذکورہ اشیاءمیں سےکوئی شخص اگراپنے ذاتی استعمال کیلئے ،بغیرکوئی نقصان کئےکوئی پھل پھول وغیرہ توڑلےتوکیااس کےلئےیہ جائزہے یاناجائز؟ اگرناجائز ہے توپھراس کی تلافی کی کیاصورت ہوگی؟اوریہ بات بھی پیش نظررہےکہ ان پھلوں کو کوئی بھی استعمال میں نہیں لاتا ،یونہی ضائع ہوجاتے ہیں اور توڑلینے میں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔اوربسا اوقات کسی آفت سماوی کی وجہ سے یہ درخت وغیرہ کبھی مکمل گرجاتے ہیں اور کبھی کوئی حصہ ٹوٹ جاتا ہے دیہاتوں میں تو لوگ ان کو اٹھا کر گھروں کو لے جاتے ہیں کیا ان کےلئے ایسا کرنا جائز ہے ؟ وضاحت: بندہ کی مراد ان پھلوں کو توڑنے سے ان درختوں کے پھل ہیں جو سرکاری ٹھیکے پر نہیں ہوتے بلکہ ان کی دیکھ بھال کی طرف کوئی خاص توجہ ہی نہیں کی جاتی اور ان کے پھل ضائع ہوجاتے ہیں ان درختوں کے پھل کھالینے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟
وہ پھل جن کی سرکار کی طرف سے دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام نہیں ہوتا اور وہ ٹھیکے وغیرہ پر بھی نہیں دیےجاتےاورحکومت کی طرف سےان کواستعمال کرنےسےکسی کوروکابھی نہیں جاتاایسےدرختوں کےپھلوں کواستعمال کرنےکی گنجائش ہے۔البتہ جن درختوں کی دیکھ بھال اورحفاظت کاحکومت کی طرف سے انتظام ہوتاہے،ٹھیکےپردیےجاتےہیں یاان کےاستعمال سےمنع کیاجاتاہےیاایسےپھول جوباغات کی خوبصورتی اور تزیین کےپیش نظرلگائےجاتےہیں اور ان پر نگران بھی مقررکئے جاتےہیں ان کاتوڑنادرست نہیں ہے۔